Friday, 26 June 2026

Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ is Busy every day

 ...

 قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

اللَّهُ الصَّمَدُ

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ

وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ

Say, "He (is) Allah, the One.

Allah, the Eternal, the Absolute.

Not He begets and not He is begotten.

And not is for Him equivalent any [one]."

[Al-Quran Surah al-Ikhlas 112


Surah Ar-Rahman states that: 


The Beneficent (55:29)


يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍۢ ٢٩


All those in the heavens and the earth beseech Him (for their needs.) Every day He is in a state of action.

— T. Usmani


Whoever is within the heavens and earth asks Him; every day He is in [i.e., bringing about] a matter.[1]

— Saheeh International

[1]- For each of His creatures.


All that are in the heavens and the earth entreat Him. Every day He exerciseth (universal) power.

— M. Pickthall


آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے

— Fatah Muhammad Jalandhari


اسی سے مانگتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اسی سے مانگتے ہیں جو آسمانوں اورزمین میں ہیں ہر روز اس کا ایک کام ہے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/ar-rahman/29]


Allah is Ar-Rahman. Surah Ar-Rahman highlights the various aspects of Allah's attribute of Ar-Rahman. 

Ar-Rahman is constantly being Merciful, Extremely Merciful, towards all His slaves. 

Regardless of whether a slave believes or not, regardless of whether a slave submits or not, regardless of whether a slave worships or not, Allah in His Name Ar-Rahman, is graciously providing for all His slaves. 

Everybody asks from Him, and He responds to everybody. 

Whoever is in the skies or earth, everybody is a slave of Allah. 

Allah, Ar-Rahman, responds to everybody. 

Allah is Busy every day. 

Allah does not rest. 

Allah does not need to rest. 

Allah is free from the need to rest. 

Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ is Perfect. 

The word شَأْنٍۢ occurs four times in The Quran: 

Screenshot from corpus.quran.com

Shan (شَأْنٍۢ) means being in a state of being busy, bringing about a matter, doing something, being concerned about something, being preoccupied, to be in a situation, and being busy resolving it, or trying to resolve it. 

Allah, Ar-Rahman, in His Perfection, is busy with the situation of all His Slaves, resolving their requests all the time.  

We are assured that Allah responds when we call upon Him, and we are encouraged to respond to His Call: 


وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّى قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لِى وَلْيُؤْمِنُوا۟ بِى لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ١٨٦


When My servants ask you ˹O Prophet˺ about Me: I am truly near. I respond to one’s prayer when they call upon Me. So let them respond ˹with obedience˺ to Me and believe in Me, perhaps they will be guided ˹to the Right Way˺.

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran


When My servants ask you about Me, then (tell them that) I am near. I respond to the call of one when he prays to Me; so they should respond to Me, and have faith in Me, so that they may be on the right path.

— T. Usmani


And when My servants ask you, [O Muḥammad], concerning Me - indeed I am near. I respond to the invocation of the supplicant when he calls upon Me. So let them respond to Me [by obedience] and believe in Me that they may be [rightly] guided.

— Saheeh International


And when My servants question thee concerning Me, then surely I am nigh. I answer the prayer of the suppliant when he crieth unto Me. So let them hear My call and let them trust in Me, in order that they may be led aright.

— M. Pickthall


When My servants ask thee concerning Me, I am indeed close (to them): I listen to the prayer of every suppliant when he calleth on Me: Let them also, with a will, Listen to My call, and believe in Me: That they may walk in the right way.

— A. Yusuf Ali


میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتادو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اس کی پکار کو سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔ “

— Fe Zilal al-Qur'an


اور اے نبیؐ ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُ نھیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں 1یہ بات تم اُنھیں سُنادو شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔2

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

[1]یعنی اگر چہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے اور نہ اپنے حواس سے مجھ کو محسوس کر سکتے  ہو ، لیکن یہ خیال نہ کرو کہ میں تم سے  دُور ہوں۔ نہیں، میں اپنے ہر بندے سے اتنا قریب  ہوں کہ جب وہ چاہے ، مجھ سے عرض معرُوض کر سکتا ہے، جتّٰی کہ دل ہی دل میں وہ جو  کچھ مجھ سے گزارش کرتا ہے میں اُسے بھی سُن لیتا ہوں اور صرف سُنتا ہی نہیں، فیصلہ  بھی صادر کرتا ہوں۔ جن بے حقیقت اور بے اختیار ہستیوں کو تم نے اپنی نادانی سے  الٰہ اور ربّ قرار دے رکھا ہے ، اُن کے پاس تو تمہیں دَوڑ دَوڑ کر جانا پڑتا ہے  اور پھر بھی نہ وہ تمہاری شنوائی کر سکتے ہیں اور نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ تمہاری  درخواستوں پر کو ئی فیصلہ صادر کر سکیں۔ مگر میں کائنات  بے پایاں کا فرماں روا ے مطلق، تمام اختیارات  اور تمام طاقتوں کا مالک، تم سے اتنا قریب ہوں کہ تم خود بغیر کسی واسطے اور وسیلے  اور سفارش کے براہِ راست ہر وقت اور ہر جگہ مجھ تک اپنی عرضیاں پہنچا سکتے ہو۔  لہٰذا تم اپنی اس نادانی کو چھوڑ دو کہ ایک ایک بے اختیار بناوٹی خدا کے  در پر مارے مارے پھرتے ہو۔ میں جو دعوت تمہیں  دے رہا ہوں ، اس پر لبیک کہہ کر میرا دامن پکڑ لو، میری طرف رُجوع کرو، مجھ پر  بھروسہ کرو اور میری زندگی و اطاعت میں آجا ؤ ۔

[2]یعنی تمہارے ذریعے سے یہ حقیقتِ حال معلوم کر کے اُن کی آنکھیں کھُل جائیں اور  وہ اس صحیح رویّے کی طرف آجائیں ، جس میں ان کی اپنی  ہی بھلائی ہے۔


اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں[1] اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے

— Maulana Muhammad Junagarhi

[1]رمضان المبارک کے احکام ومسائل کے درمیان دعا کا مسئلہ بیان کرکے یہ واضح کردیا گیا کہ رمضان میں دعا کی بھی بڑی فضیلت ہے، جس کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، خصوصاً افطاری کے وقت کو قبولیت دعا کا خاص وقت بتلایا گیا ہے (مسند أحمد، ترمذي ، نسائي، ابن ماجه بحواله ابن كثير) تاہم قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ ان آداب وشرائط کو ملحوظ رکھا جائے جو قرآن وحدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ جن میں سے دو یہاں بیان کئے گئے ہیں: ایک اللہ پر صحیح معنوں میں ایمان اور دوسرا اس کی اطاعت وفرمانبرداری۔ اسی طرح احادیث میں حرام خوراک سے بچنے اور خشوع وخضوع کا اہتمام کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔


اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں

— Fatah Muhammad Jalandhari


اور (اے نبی ﷺ !) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان کو بتا دیجیے کہ) میں قریب ہوں میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اور جب تجھ سے پوچھیں میرے بندے مجھ کو سو میں تو قریب ہوں قبول کرتا ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو جب مجھ سے دعا مانگے تو چاہئے کہ وہ حکم مانیں میرا اور یقین لائیں مجھ پر تاکہ نیک راہ پر آئیں [1]

— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

[1]اللہ تعالیٰ بندوں سے قریب ہے:شروع میں یہ حکم تھا کہ رمضان میں اول شب میں کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت تھی مگر سو رہنے کے بعد ان چیزوں کی ممانعت تھی بعض لوگوں نے اس کے خلاف کیا اور سونے کے بعد عورتوں سے قربت کی پھر آپ ﷺ سے آ کر عرض کیا اور اپنے قصور کا اقرار اور ندامت کا اظہار کیا اور توبہ کی نسبت آپ سے سوال کیا تو اس پر یہ آیت اتری کہ تمہاری توبہ قبول کی گئ اور احکام خداوندی کی اطاعت کی تاکید فرما دی گئ اور حکم سابق منسوخ فرما کر آئندہ کو اجازت دے دی گئ کہ تمام شب رمضان میں صبح صادق سے پہلے کھانا وغیرہ تم کو حلال ہے جس کا ذکر اس کے بعد کی آیت میں آتا ہے اور آیت سابقہ میں جو بندوں پر سہولت اور عنایت کا ذکر تھا اس قرب و اجابت و اباحت سے اس کی بھی خوب تاکید ہو گئ۔ اور ایک تعلق کی وجہ یہ بھی ہے کہ پہلی آیت میں تکبیر اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا حکم تھا آپ ﷺ سے بعض نے پوچھا کہ ہمارا رب دور ہے تو ہم اس کو پکاریں یا نزدیک ہے تو آہستہ بات کریں ۔ اس پر یہ آیت اتری یعنی وہ قریب ہے ہر ایک بات سنتا ہے آہستہ ہو یا پکار کر اور جن موقعوں میں پکار کر تکبیر کہنے کا حکم ہے وہ دوسری وجہ سے یہ نہیں کہ وہ آہستہ بات کو نہیں سنتا ۔


اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں ،پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہيے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں ، تاکہ وہ ہدایت پائیں

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/al-baqarah/186]


Allah is Perfectly Able to respond to the call of each and every slave, whenever he calls upon Him. 

We are asked to respond to Allah. 

We are asked to respond to Allah's Guidance. 

The Quran has been revealed for our guidance, so that we make legally correct choices, wilfully submitting to Allah's Deen, by which we will be judged on the Day of Judgement. So, in Surah Abasa, we read: 


 فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ‏ ٣٣ يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ‏ ٣٤ وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ‏ ٣٥ وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ‏ ٣٦ لِكُلِّ امۡرِیءٍ مِّنۡهُمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِؕ‏ ٣٧ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ مُّسۡفِرَةٌ ۙ‏ ٣٨ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ ۚ‏ ٣٩ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌ ۙ‏ ٤٠ تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ ؕ‏ ٤١ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ ٤٢




So when the Deafening Noise will occur, the Day when one will flee from his brother, and from his mother and father, and from his wife and sons, every one of them will be too engaged in his own affairs to care for others. Many faces, on that day, will be bright, laughing, rejoicing, and many faces, on that day, will be stained with dust, covered by darkness. Those are the disbelievers, the nefarious.

— T. Usmani


But when there comes the Deafening Blast 34.On the Day a man will flee from his brother 35.And his mother and his father 36.And his wife and his children, 37.For every man, that Day, will be a matter adequate for him. 38.[Some] faces, that Day, will be bright - 39.Laughing, rejoicing at good news. 40.And [other] faces, that Day, will have upon them dust. 41.Blackness will cover them. 42.Those are the disbelievers, the wicked ones.

— Saheeh International


تو جب وہ آجائے گی کان پھوڑنے والی (آواز)۔ 34.اس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے۔ 35.اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے۔ 36.اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ 37.اس دن ان میں سے ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے (ہر ایک سے) بےپروا کر دے گی۔ 38.کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ 39.مسکراتے ہوئے خوش و خرم۔ 40.اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔ 41.ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ 42.یہی ہوں گے وہ کافر اور فاجر لوگ۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


33.پس جب وہ کانوں کو بہرہ کردینے والا شور برپاہوگا 34.جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے 35.اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے 36.او ر اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے 37.ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایسا فکر ہوگا جو اس کو کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا 38.کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے 39.ہنستے ہوئے،خوشی کرتے ہوئے 40.اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اُڑ رہی ہوگی 41.ان پرسیاہی چھائی ہوئی ہوگی 42.یہی لوگ منکر ہیں ،ڈھیٹ ہیں

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/abasa/33-42]



Related Posts

arRahman arRaheem 

Understanding Q2:256 (No compulsion in Deen) 

Iman & Amanat 

in the beginning 


...


No comments: