Wednesday, 11 March 2026

Shukr vs Kufr

the collapse of the wave function 

The Heights (7:188)


قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ١٨٨


Say, “I have no power to benefit or protect myself, except by the Will of Allah. If I had known the unknown, I would have benefited myself enormously, and no harm would have ever touched me. I am only a warner and deliverer of good news for those who believe.”

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran


Say, “I have no power to bring a benefit or a harm to myself, except that which Allah wills. If I had the knowledge of the Unseen, I would have accumulated a lot of good things, and no evil would have ever touched me. I am but a warner, and a herald of good news for a people who believe.”

— T. Usmani


Say: For myself I have no power to benefit, nor power to hurt, save that which Allah willeth. Had I knowledge of the Unseen, I should have abundance of wealth, and adversity would not touch me. I am but a warner, and a bearer of good tidings unto folk who believe.

— M. Pickthall


Say: "I have no power over any good or harm to myself except as Allah willeth. If I had knowledge of the unseen, I should have multiplied all good, and no evil should have touched me: I am but a warner, and a bringer of glad tidings to those who have faith."

— A. Yusuf Ali


اے نبی ان سے کہو کہ " میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فادے اپنے لیے حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں

— Fe Zilal al-Qur'an


اے محمدؐ ، ان سے کہو کہ ”میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔میں 1تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سُنانے والا ہوں اُن لوگوں کےلیے جو میری بات مانیں۔“

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

[1]مطلب یہ ہے کہ قیامت کی ٹھیک تاریخ وہی بتا سکتا ہے جسے غیب کا علم ہو، اور  میرا حال یہ ہے کہ میں کل کے متعلق بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ یا میرے بال بچوں  کے ساتھ کیا کچھ پیش آنے والا ہے۔ تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اگر یہ علم مجھے حاصل  ہوتا تو میں کتنے نقصانات سے قبل از وقت آگاہ ہو کر بچ جاتا اور کتنے فائدے محض  پیشگی علم کی بدولت اپنی ذات کے لیے سمیٹ لیتا پھر یہ تمہاری کتنی بڑی نادانی ہے  کہ تم مجھ سے پو چھتے ہو کہ قیامت کب آئے گی۔


آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔[1]

— Maulana Muhammad Junagarhi

[1]یہ آیت اس بات میں کتنی واضح ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) عالم الغیب نہیں۔ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے ۔ لیکن ظلم اور جہالت کی انتہا ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ (صلى الله عليه وسلم) کو عالم الغیب باور کراتے ہیں۔ حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، آپ (صلى الله عليه وسلم) کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا، اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”یہ قوم کیسے فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کر دیا“، کتب حدیث میں یہ واقعات بھی اور ذیل کے واقعات بھی درج ہیں، حضرت عائشہ (رضي الله عنها) پر تہمت لگی تو آپ پورا ایک مہینہ سخت مضطرب اور نہایت پریشان رہے۔ ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملا دیا، جسے آپ نے بھی تناول فرمایا اور صحابہ نے بھی، حتیٰ کہ بعض صحابہ تو کھانے کے زہر سے شہید ہی ہوگئے اور خود نبی (صلى الله عليه وسلم) عمر بھر اس زہر کے اثرات محسوس فرماتے رہے۔ یہ اور اس قسم کے متعدد واقعات ہیں جن سے واضح ہے کہ آپ کو عدم علم کی وجہ سے تکلیف پہنچی، نقصان اٹھانا پڑا، جس سے قرآن کی بیان کردہ حقیقت کا اثبات ہوتا ہے کہ ”اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی مضرت نہ پہنچتی“۔


کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں

— Fatah Muhammad Jalandhari


کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں ہے اپنی جان کے بارے میں بھی کسی نفع کا اور نہ کسی نقصان کا سوائے اس کے جو اللہ چاہے نہیں ہوں میں مگر بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہوں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


تو کہہ دے کہ میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں جان لیا کرتا غیب کی بات تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھ کو برائی کبھی نہ پہنچتی [1] میں تو بس ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں ایماندار لوگوں کو

— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

[1]آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب حاصل نہیں تھا:اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ کوئی بندہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو نہ اپنے اندر 'اختیار مستقل' رکھتا ہے نہ 'علم محیط' سیدالانبیاء ﷺ جو علوم اولین و آخرین کے حامل اور خزائن ارضی کی کنجیوں کے امین بنائے گئے تھے۔ ان کو یہ اعلان کرنے کا حکم ہے کہ میں دوسروں کو کیا خود اپنی جان کو بھی کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا نہ کسی نقصان سے بچا سکتا ہوں ۔ مگر جس قدر اللہ چاہے اتنے ہی پر میرا قابو ہے۔ اور اگر میں غیب کی ہر بات جان لیا کرتا تو بہت سی وہ بھلائیاں اور کامیابیاں بھی حاصل کر لیتا جو علم غیب نہ ہونے کی وجہ سے کسی وقت فوت ہو جاتی ہیں نیز کبھی کوئی ناخوشگوار حالت مجھ کو پیش نہ آیا کرتی۔ مثلًا 'افک' کے واقعہ میں کتنے دنوں تک حضور ﷺ کو وحی نہ آنے کی وجہ سے اضطراب و قلق رہا۔ حجۃ الوداع میں تو صاف ہی فرما دیا لَوْاسْتَقبَلْتُ مِنْ اَمْرِیَ ما اسْتَدْ بَرْتُ لَمَا سُقْتُ الھَدْیَ (اگر میں پہلے سے اس چیز کو جانتا جو بعد میں پیش آئی تو ہرگز ہدی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا) اسی قسم کے بیسیوں واقعات ہیں جن کی روک تھام 'علم محیط' رکھنے کی صورت میں نہایت آسانی سے ممکن تھی۔ ان سب سے بڑھ کر عجیب تر واقعہ یہ ہے کہ 'حدیث جبرئیل' کی بعض روایات میں آپ نے تصریحًا فرمایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے جبرئیل کو  واپسی کے وقت تک نہیں پہچانا۔ جب وہ اٹھ کر چلے گئے تب علم ہوا کہ جبرئیل تھے۔ یہ واقعہ بتصریح محدثین بالکل آخر عمر کا ہے۔ اس میں قیامت کے سوال پر ما المسئولُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِل ارشاد فرمایا ہے۔ گویا بتلا دیا گیا کہ 'علم محیط' خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اور 'علم غیب' تو درکنار محسوسات و مبصرات کا پورا علم بھی خدا ہی کے عطا کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ کسی وقت نہ چاہے تو ہم محسوسات کا بھی اور ادراک نہیں کر سکتے۔ بہرحال اس آیت میں کھول کر بتلا دیا گیا کہ 'اخیتار مستقل' یا  'علم محیط' نبوت کے لوازم میں سے نہیں۔ جیسا کہ بعض جہلاء سمجھتے تھے۔ ہاں شرعیات کا علم جو انبیاءؑ کے منصب سےمتعلق ہے کامل ہونا چاہئے اور تکوینیات کا علم خدا تعالیٰ جس کو جس قدر مناسب جانے عطا فرماتا ہے۔ اس نوع میں ہمارے حضور ﷺ تمام اولین و آخرین سے فائق ہیں۔ آپ کو اتنے بیشمار علوم و معارف حق تعالیٰ نے مرحمت فرمائے ہیں جن کا احصاء کسی مخلوق کی طاقت میں نہیں۔


کہو، میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے ليے حاصل کرلیتااور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا میں تو محض ایک ڈرانے والا، اور خوش خبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کے ليے جو میری بات مانیں

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/7/188]


The unseen is hidden, nobody except Allah knows 'ٱلْغَيْبَ'. Therefore, nobody, not even the most pious people can amass lots of khair 'لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ' and avoid being touched by the harm 'مَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ'. 

Belief in the unseen/unknown/hidden 'ٱلْغَيْبَ' means that we trust that there is much going on behind the scenes, and we believe that there is much we do not know or will ever know. 

Allah alone decrees who gets what and when. 

Allah loves those who are in a state of 'shukr', and dislikes 'kufr' in His slaves. 

When we try to count Allah's blessings, we are unable to count them, because they are so many. Some we realise, and many which we take for granted, and so much more that we do not even think of, or even know. 

When a slave does 'shukr', Allah likes it, and is pleased with His slave. 

When a slave does 'kufr', Allah dislikes it, and is not pleased with His slave. 

Scientists theorise that, at the most fundamental level, objects act as both wave and particle. Till a tiny object is not observed, it will act as a wave, and when it is observed, it acts as a particle. 
Perhaps we can apply that idea to observe and realise our blessings, doing 'shukr' by focussing on our blessings, sharing them by spending from them, and thereby realising the potential waves of blessings that come our way. 
The opposite would be 'kufr'. 

The Hereafter is also unseen. Best to invest as many blessings as we can in our Hereafter. 
May Allah grant us the goodness and the taqwa to use Allah's blessings in ways that Allah is pleased with us, and we with Him. Aameen. 




Also read:

Lifestyle 

Gratitude Reminders 

Gratitude & Its Manifestation 

The Deen & he who belies it 

Feeding the Miskeen 



...



...

No comments: