...
Joseph (12:40)
مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٤٠
You worship not besides Him except [mere] names you have named them,[1] you and your fathers, for which Allāh has sent down no evidence. Legislation is not but for Allāh. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.
Those whom ye worship beside Him are but names which ye have named, ye and your fathers. Allah hath revealed no sanction for them. The decision rests with Allah only, Who hath commanded you that ye worship none save Him. This is the right religion, but most men know not.
— M. Pickthall
نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
تم اس کے سوا نہیں پوجتے ہو مگر کچھ ناموں کو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ ليے ہیں اللہ نے اس کی کوئی سند نہیں اتاری اقتدار صرف اللہ کے ليے ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے
— Maulana Wahiduddin Khan
Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى is the true King.
Legislation belongs to Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى .
By inventing other gods, humans are able to circumvent divine laws in the life of this world.
Laws are decreed to govern.
Sometimes, a person's soul (nafs) desires something that is not legally possible. Thus, the need to look for loopholes, or how to circumvent the law. Thus, the need for legal experts.
Experts in Law are lawyers, barristers, judges, attorneys, etc.
Experts in religious law are prophets, messengers, 'fuqaha', 'canon lawyers', 'clerics', 'theologians', etc.
Surah Yusuf presents examples of laws of the king being bypassed to achieve a goal:
The first such example is when, despite Joseph (Yusuf عليه السلام)'s innocence, he is threatened with imprisonment, and then consequently imprisoned for not complying to the invitations to sin.
The second example is when the father advises his sons to enter Egypt through different gates.
The third example is when Joseph (Yusuf عليه السلام) wants to take his younger brother from his elder brothers, yet he cannot do so, according to the Law of the King:
Joseph (12:76)
فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ ٧٦
So, he started with their bags before (searching) the bag of his brother, then, recovered it from the bag of his brother.This is how We planned for Yūsuf. He had no right to take his brother according to the law of the king, unless Allah so willed. We elevate in ranks whomsoever We will. Above every man of knowledge, there is someone more knowledgeable.
— T. Usmani
So he began (the search) with their baggage, before (he came to) the baggage of his brother: at length he brought it out of his brother's baggage. Thus did We plan for Joseph. He could not take his brother by the law of the king except that Allah willed it (so). We raise to degrees (of wisdom) whom We please: but over all endued with knowledge is one, the All-Knowing.
— A. Yusuf Ali
تب یُوسُف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خُرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کر لی۔۔۔۔اِس طرح ہم نے یُوسُف ؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔1 اُس کا یہ کا م نہ تھا کہ بادشاہ کے دین(یعنی مصر کے شاہی قانون)میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔2 ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایساہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اس پورے سلسلۂ واقعات میں وہ کون سی تدبیر ہے جو حضرت یوسفؑ کی تائید میں براہِ راست خدا کی طرف سے کی گئی؟ ظاہر ہے کہ پیالہ رکھنے کی تدبیر تو حضرت یوسفؑ نے خود کی تھی۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ سرکاری ملازموں کا چوری کے شبہہ میں قافلے والوں کو روکنا بھی حسبِ معمول و ہ کام تھا جو ایسے مواقع پر سب سرکاری ملازم کیا کر تے تھے۔ پھر وہ خاص خدائی تدبیر کون سی ہے ؟ اوپر کی آیات میں تلاش کرنے سے اس کے سوا کسی دوسری چیز کو اس کا مقصد نہیں ٹھیرا یا جا سکتا کہ سرکاری ملازموں نے خلافِ معمول خود مشتبہ ملزموں سے چور کی سزا پوچھی، اور انہوں نے وہ سزا بتائی جو شریعتِ ابراہیمی کی رو سے چور کو دی جاتی تھی۔ اس کے دو فائدے ہوئے ایک یہ کہ حضرت یوسفؑ کو شریعتِ ابراہیمی پر عمل کا موقع مل گیا ۔ دوسرا یہ کہ بھائی کو حوالات میں بھیجنے کے بجائے اب وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔
[2]یعنی یہ بات حضرت یوسف ؑ کی شان پیغمبری کے شایاں نہ تھی کہ وہ اپنے ایک ذاتی معاملہ میں شاہ مصر کے قانون پر عمل کرتے۔ اپنے بھائی کو روک رکھنے کے لیے انہوں نے خود جو تدبیر کی تھی اس میں خلل رہ گیا تھا کہ بھائی کو روکا تو ضرور جاسکتا تھا مگر شاہ مصر کے قانونِ تعزیرات سے کام لینا پڑتا، اور یہ اس پیغمبر کی شان کے مطابق نہ تھا جس نے اختیاراتِ حکومت غیر اسلامی قوانین کی جگہ اسلامی شریعت نافذ کرنے کے لیے اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ اگر اللہ چاہتا تو اپنے نبی کو اس بدنما غلطی میں مبتلا ہوجانے دیتا، مگر اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ یہ دھبہ اس کے دامن پر رہ جائے، اس لیے اس نے براہ راست اپنی تدبیر سے یہ راہ نکال دی کہ اتفاقاً برادران یوسف ؑ سے چور کی سزا پوچھ لی گئی اور انہوں نے اس کے لیے شریعتِ ابراہیمی کا قانون بیان کردیا۔ یہ چیز اس لحاظ سے بالکل برمحل تھی کہ برادران یوسف ؑ مصری رعایا نہ تھے، ایک آزاد علاقے سے آئے ہوئے لوگ تھے، لہٰذا اگر وہ خود اپنے ہاں کے دستور کے مطابق اپنے آدمی کو اُس شخص کی غلامی میں دینے کے لیے تیار تھے جس کا مال اس نے چرایا تھا، تو پھر مصری قانونِ تعزیرات سے اس معاملہ میں مدد لینے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہی وہ چیز ہے جس کو بعد کی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی علمی برتری سے تعبیر فرمایا ہے۔ ایک بندے کے لیے اس سے بڑھ کر بلندیِ درجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ اگر وہ کبھی بشری کمزوری کی بنا پر خود کسی لغزش میں مبتلا ہو رہا ہو تو اللہ تعالیٰ غیب سے اس کو بچانے کا انتظام فرمادے۔ ایسا بلند مرتبہ صرف انہی لوگوں کو ملا کرتا ہے جو اپنی سعی و عمل سے بڑی بڑی آزمائشوں میں اپنا ”محسن“ ہونا ثابت کرچکے ہوتے ہیں۔ اور اگر چہ حضرت یوسف ؑ صاحبِ علم تھے، خود بہت دانشمندی کے ساتھ کام کرتے تھے، مگر پھر بھی اس موقع پر ان کے علم میں ایک کسر رہ ہی گئی اور اُسے اس ہستی نے پورا کیا جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے۔
یہاں چند امور اور وضاحت طلب رہ جاتے ہیں جن پر ہم مختصر کلام کریں گے:
(١) عام طور پر اس آیت کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ ”یوسف ؑ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتا تھا“۔ یعنی ماکان لیاخذ کو مترجمین و مفسرین عدم قدرت کے معنی میں لیتے ہیں نہ کہ عدم صحت اور عدم مناسبت کے معنی میں۔ لیکن اوّل تو یہ ترجمہ و تفسیر عربی محاورے اور قرآنی استعمالات دونوں کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ عربی میں عموماً ماکان لہ بمعنی ما ینبغی لہ، ماصح لہ، ما استقام لہُ، وغیرہ آتا ہے اور قرآن میں بھی یہ زیادہ تر اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلاً مَا کَانَ اللہُ اَن یَّتَّخِذَ مِن وَّلَدٍ۔ مَاکَانَ لَنَآ اَن نُّشرِکَ بِا للہِ مِن شَی ءٍ۔ مَا کَانَ اللہُ لِیُطلِعَکُم عَلَی الغَیبِ۔ مَاکَانَ اللہُ لِیُضِیعَ اِیمَانَکُم۔ فَمَا کَانَ اللہُ لِیَظلِمَہُم۔ مَاکَانَ اللہُ لِیَذَرَالمُوٴمِنِینَ عَلیٰ مَآ اَنتُم عَلَیہِ۔ مَا کَانَ ،ِمُوٴمِنٍ اَن یَّقتُلَ مُوٴ مِنًا۔ دوسرے اگر اس کے وہ معنی لیے جائیں جو مترجمین و مفسرین بالعموم بیان کرتے ہیں تو بات بالکل مہمل ہوجاتی ہے۔ بادشاہ کے قانون میں جور کو نہ پکڑسکنے کی آخر وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ کیا دنیا میں کبھی کوئی سلطنت ایسی بھی رہی ہے جس کا قانون چور کو گرفتار کرنے کی اجازت نہ دیتا ہو؟
(2) اللہ تعالیٰ نے شاہی قانون کے لیے ”دین الملک“ کا لفظ استعمال کرکے خود اُس مظلب کی طرف اشارہ فرمادیا ہے جو ماکان لیاخذ سے لیا جانا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کا پیغمبر زمین میں”دین اللہ“جاری کرنے کے لیے مبعوث ہُوا تھا نہ کہ ”دین الملک“ جاری کرنے کے لیے۔ اگر حالات کی مجبوری سے اُس کی حکومت میں اُس وقت تک پوری طرح دین الملک کی جکہ دین اللہ جاری نہ ہوسکا تھا تب بھی کم از کم پیغمبر کا اپنا کام تو یہ نہ تھا کہ اپنے ایک شخصی معاملہ میں دین الملک پر عمل کرے۔ لہٰذا حضرت یوسف ؑ کا دین الملک کے مطابق اپنے بھائی کو نہ پکڑنا اس بنا پر نہیں تھا کہ دین الملک میں ایسا کرنے کی گنجائش نہ تھی، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ پیغمبر ہونے کی حیثیت سے اپنی ذاتی حد تک دین اللہ پر عمل کرنا ان کا فرض تھا اور دین الملک کی پیروی ان کے لیے قطعاً نامناسب تھی۔
(3) قانون مُلکی(Law of the land ) کے یے لفظ ”دین“ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے معنی دین کی وسعت پوری طرح واضح کردی ہے۔ اِس سے اُن لوگوں کے تصورِ دین کی جڑ کٹ جاتی ہےجو انبیاء علیہم السلام کی دعوت کو صرف عام مزہبی معنوں میں خدائے واحد کی پوجا کرانے اور محض چند مزہبی مراسم و عقائد کی پابندی کرالینے تک محدود سمجھتے ہیں، اور یہ خیال کرتے ہیں کہ انسانی تمدّن ، سیاست، معیشت، عدالت، قانون اور ایسے ہی دوسرے دنیوی امور کا کوئی تعلق دین سے نہیں ہے، یا اگر ہے بھی تو ان اُمور کے بارے میں دین کی ہدایات محض اختیاری سفارشات ہیں جب پر اگر عمل ہوجائے تو اچھا ہے ورنہ انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے اصول و ضوابط قبول کرلینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ سراسر گمراہانہ تصورِدین، جس کا ایک مدت سے مسلمانوں میں چرچا ہے، جو بہت بڑی حد تک مسلمانوں کو اسلامی نظامِ زندگی کے عیام کی سعی سے غافل کرنے کا ذمہ دار ہے، جس کی بدولت مسلمان کفر و جاہلیت کے نظامِ زندگی پر نہ صرف راضی ہوئے بلکہ ایک نبی کی سنت سمجھ کر اس نظام کے پُرزے بننے اور اس کو خود چلانے کے لیے بھی آمادہ ہوگئے، اِس آیت کی رو سے قطعاً غلط ثابت ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ صاف بتارہا ہے کہ جس طرح نماز، روزہ اور حج دین ہے اسی طرح وہ قانون بھی دین ہے جس پر سوسائٹی کا نظام اور ملک کا انتظام چلایا جاتا ہے۔ لہٰذا اِنَّ الدِّینَ عِندَاللہِ الاِسلَامُ اوروَمَن یَّبتَغِ غَیرَالاِسلَامِ دِینًا فَلَن یُّقبَلَ مِنہُ وغیرہ آیاتمیں جس دین کی اطاعت کا مطالبہ کیا گیا ہے اس سے مراد صرف نماز، روزہ ہی نہیں ہے بلکہ اسلام کا اجتماعی نظام بھی ہے جس سے ہٹ کر کسی دوسرے نظام کی پیروی خدا کے ہاں ہرگز مقبول نہیں ہوسکتی۔
(4) سوال کیا جاسکتا ہے کہ اس سے کم از کم یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت تک مصر کی حکومت میں”دین الملک“ ہی جاری تھا۔ اب اگر اس حکومت کے حاکم اعلیٰ حضرت یوسف ؑ ہی تھے، جیسا کہ تم خود پہلے ثابت کرچکے ہو، تو اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ ، خدا کے پیغمبر، خود اپنے ہاتھوں سے ملک میں ”دین الملک“ جاری کررہے تھے۔ اس کے بعد اگر اپنے ذاتی معاملہ میں حضرت یوسف ؑ نے ”دین الملک“ کے بجائے شریعت ابراہیمی پر عمل کیا بھی تو اس سے فرق کیا واقع ہُوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ مامور تو دین اللہ جاری کرنے ہی پر تھے اور یہی ان کا پیغمبرانہ مشن اور ان کی حکومت کا مقصد تھا، مگر ایک ملک کا نظام عملاً ایک دن کے اندر نہیں بدل جایا کرتا۔ آج اگر کوئی ملک بالکلیہ ہمارے اختیار میں ہو اور ہم اس میں اسلامی نظام قائم کرنے کی خالص نیت ہی سے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیں، تب بھی اس کے نظام تمدّن، نظامِ معاشی، نظام سیاست اور نظام عدالت و قانون کو بالفعل بدلتے بدلتے برسوں لگ جائیں گے اور کچھ مدت تک ہم کو اپنے انتظام میں بھی سابق قوانین برقرار رکھنے پڑیں گے۔ کیا تاریخ اس بات پر شاہد نہیں ہے کہ خود نبی ؐ کو بھی عرب کے نظام زندگی میں پورا اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے نو دس سال لگے تھے؟ اس دوران میں خاتم النبیین ؐ کی اپنی حکومت میں چند سال شراب نوشی ہوتی رہی، سودلیا اور دیا جاتا رہا، جاہلیت کا قانونِ میراث جاری رہا، پرانے قوانین نکاح و طلاق برقرار رہے، بیوعِ فاسدہ کی بہت سی صورتیں عمل میں آتی رہیں، اور اسلامی قوانین دیوانی و فوجداری بھی اول روز ہی بتمام و کمال نافذ نہیں ہوگئے۔ پس اگر حضرت یوسف ؑ کی حکومت میں ابتدائی آٹھ نو سال تک سابق مصری بادشاہت کے کچھ قوانین چلتے رہے ہوں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے اور اس سے یہ دلیل کیسے نکل آتی ہے کہ خدا کا پیغمبر مصر میں خدا کے دین کو نہیں بلکہ بادشاہ کے دین کو جاری کرنے پر مامور تھا۔ رہی یہ بات کہ جب ملک میں دین الملک جاری تھا ہی تو آخر حضرت یوسف ؑ کی اپنی ذات کے لیے اس پر عمل کرنا کیوں شایانِ شان نہ تھا، تو یہ سوال بھی نبی ؐ کے طریقہ پر غور کرنے سے بآسانی حل ہوجاتا ہے۔ نبی ؐ کی حکومت کے ابتدائی دور میں جب تک قوانین اسلامی جاری نہ ہوئے تھے، لوگ پُرانے طریقے کے مچابق شراب پیتے رہے، مگر کیا حضور ؐ نے بھی پی؟ لوگ سود لیتے دیتے تھے، مگر کیا آپ ؐ نے بھی سودی لین دین کیا؟ لوگ متعہ کرتے رہے اور جمع بین الاختین کرتے رہے، مگر کیا حضور ؐ نے بھی ایسا کیا؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی اسلام کا عملی مجبوریوں کی بنا پر احکام اسلامی کے اجراء میں تدریج سے کام لینا اور چیز ہے اور اس کا خود اس تدریج کے دور میں جاہلیت کے طریقوں پر عمل کرنا اور چیز۔ تدریج کی رخصتیں دوسروں کے لیے ہیں۔ داعی کا اپنا یہ کام نہیں ہے کہ خود ان طریقوں میں سے کسی پر عمل کرے جن کے مٹانے پر وہ مامور ہُوا ہے۔
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
— Fatah Muhammad Jalandhari
In his explanation (tafseer) of the ayat, Syed Abu Ali Maududi (— Tafheem e Qur'an - ) discusses the difference between personal law vs public law. While Joseph (Yusuf عليه السلام) was a prophet of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى , a monotheist, he was also in charge over the treasures of the earth of Egypt, in service of the polytheist Egyptian King, probably only second in command to the King himself. Joseph (Yusuf عليه السلام) was prevented from applying Egyptian Law to a matter between him and his monotheist brothers, and they were able to successfully uphold the Law of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى , the laws by which monotheists are supposed to live by.
Syed Abu Ali Maududi emphasises that while it may take several years to implement the Deen and Shariah nationally, it may always be possible to find ways to circumvent worldly laws to be able to comply with the Laws (Deen and Shariah) revealed by Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى .
The brothers of Joseph (Yusuf عليه السلام) were foreigners. They were travellers, visiting Egypt for trade and charity, as there were grains stockpiled in Egypt, in anticipation of the famine raging across their region. Thus, due to their non-resident status, it was possible to judge them according to their laws.
There are always exceptions to the rule, if one is willing to find them.
The driving force is who one wants to please: nafs (soul), or Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى ?
Sometimes, they align, sometimes they don't.
There are the judgements of this world, and there is a Judgement Day promised to all mankind by Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى . The Day we will be judged according to the Divine Law of The King of Mankind.
So, we invoke help, against evil of ideas that lead to sinful desires, through the prayer in the concluding surah of The Quran:
Mankind (114:1-6)
114:1
قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ ١ مَلِكِ النَّاسِۙ ٢ اِلٰهِ النَّاسِۙ ٣ مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۙ الۡخَـنَّاسِ ۙ ٤ الَّذِىۡ يُوَسۡوِسُ فِىۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ ٥ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاس ٦
1.Say, ˹O Prophet,˺ “I seek refuge in the Lord of humankind, 2.the Master of humankind, 3.the God of humankind, 4.from the evil of the lurking whisperer— 5.who whispers into the hearts of humankind— 6.from among jinn and humankind.”
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
1.Say, “I seek refuge with the Lord of mankind, 2.the King of mankind, 3.the God of mankind, 4.from the evil of the whisperer who withdraws (when Allah’s name is pronounced), 5.the one who whispers in the hearts of people, 6.whether from among the Jinn or Mankind.
— T. Usmani
کہیے کہ میں پناہ میں آتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی۔ 2.تمام انسانوں کے بادشاہ کی۔ 3.تمام انسانوں کے معبود کی۔ 4.اس بار بار وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ 5.جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ 6.خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی 2.لوگوں کے بادشاہ کی 3.لوگوں کے معبود کی 4.اس کے شر سے جو وسوسہ ڈالے اور چھپ جائے 5.جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے 6.جن میں سے، اور انسان میں سے
— Maulana Wahiduddin Khan
[https://quran.com/an-nas/1-6]
It is important to be sincere to Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى 's Law, submitting to it. That is the meaning of being a Muslim: the one who submits to Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى 's Law. So, we find quoted Joseph (Yusuf عليه السلام)'s prayer at the end of his story:
Joseph (12:101)
۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ ١٠١
“My Lord, You have given me power to rule and the knowledge of interpreting events. O Creator of the heavens and the Earth, You are my guardian in this world and the Hereafter. Make me die a Muslim and make me join the righteous.”
— T. Usmani
O my Lord! Thou hast given me (something) of sovereignty and hast taught me (something) of the interpretation of events - Creator of the heavens and the earth! Thou art my Protecting Guardian in the world and the Hereafter. Make me to die muslim (unto Thee), and join me to the righteous.
— M. Pickthall
اے میرے ربّ، تُو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تُو ہی دُنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔“1
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]یہ چند فقرے جو اس موقع پر حضرت یوسف ؑ کی زبان سے نکلے ہیں، ہمارے سامنے ایک سچے مومن کی سیرت کا عجیب دلکش نقشہ پیش کرتے ہیں۔ صحرائی گلہ بانوں کے خاندان کا ایک فرد، جس کو خود اس کے بھائیوں نے حسد کے مارے ہلاک کردینا چاہا تھا، زندگی کے نشیب و فراز دیکھتا ہُوا بالآخر دنیوی عروج کے انتہائی مقام پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے قحط زدہ اہل خاندان اب اس کے دست نگر ہوکر اس کے حضور آئے ہیں اور وہ حاسد بھائی بھی، جو اس کو مار ڈالنا چاہتے تھے، اس کے تخت شاہی کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ یہ موقع دنیا کے عام دستور کے مطابق فخر جتانے، ڈینگیں مارنے، گلے اور شکوے کرنے، اور طعن و ملامت کے تیر برسانے کا تھا۔ مگر ایک سچا خدا پرست انسان اس موقع پر کچھ دوسرے ہی اخلاق ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے اس عروج پر فخر کرنے کے بجائے اس خدا کے احسان کا اعتراف کرتا ہے جس نے اسے یہ مرتبہ عطا کیا۔ وہ خاندان والوں کو اُس ظلم و ستم پر کوئی ملامت نہیں کرتا جو اوائل عمر میں انہوں نے اس پر کیے تھے۔ اس کے برعکس وہ اس بات پر شکر ادا کرتا ہے کہ خدانے اتنے دنوں کی جدائی کے بعد ان لوگوں کو مجھ سے ملایا۔ وہ حاسد بھائیوں کے خلاف شکایت کا ایک لفظ زبان سے نہیں نکالتا۔ حتٰی کہ یہ بھی نہیں کہتا کہ انہوں نے میرے ساتھ برائی کی تھی۔بلکہ ان کی صفائی خود ہی اس طرح پیش کرتا ہے کہ شیطان نے میرے اور ان کے درمیان برائی ڈال دی تھی۔ اور پھر اس برائی کے بھی بہت پہلو چھوڑ کر اس کا یہ اچھا پہلو پیش کرتا ہے کہ خدا جس مرتبے پر مجھے پہنچانا چاہتا تھا اس کے لیے یہ لطیف تدبیر اُس نے فرمائی۔ یعنی بھائیوں سے شیطان نے جو کچھ کرایا اسی میں حکمت الٰہی کے مچابق میرے لیے خیر تھی۔ چند الفاظ میں یہ سب کچھ کہہ جانے کے بعد وہ بے اختیار اپنے خدا کے آگے جھک جاتا ہے، اس کا شکر ادا کرتا ہے کہ تو نے مجھے بادشاہی دی اور وہ قابلیتیں بخشیں جن کی بدولت میں قید خانے میں سڑنے کے بجائے آج دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر فرماں روائی کررہا ہوں۔ اور آخر میں خدا سے کچھ مانگتا ہے تو یہ کہ دنیا میں جب تک زندہ رہوں تیری بندگی و غلامی پر ثابت قدم رہوں، اور جب اس دنیا سے رخصت ہوں تو مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملادیا جائے۔ کس قدر بلند اور کتنا پاکیزہ ہے یہ نمونہٴ سیرت !
حضرت یوسف ؑ کی اس قیمتی تقریر نے بھی بائیبل اور تلمود میں کوئی جگہ نہیں پائی ہے۔ حیرت ہے کہ یہ کتابیں قصوں کی غیر ضروری تفصیلات سے تو بھری پڑی ہیں، مگر جو چیزیں کوئی اخلاقی قدروقیمت رکھتی ہیں اور جن سے انبیاء کی اصلی تعلیم اور ان کے حقیقی مشن اور ان کی سیرتوں کے سبق آموز پہلووٴں پر روشنی پڑتی ہے، ان سے ان کتابوں کا دامن خالی ہے۔
یہاں یہ قصہ ختم ہورہا ہے اس لیے ناظرین کو پھر اس حقیقت پر متنبہ کردینا ضروری ہے کہ قصہٴ یوسف ؑ کے متعلق قرآن کی یہ روایت اپنی جگہ ایک مستقل روایت ہے، بائیبل یا تلمود کا چربہ نہیںہے۔ تینوں کتابوں کا متقابل مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قصے کے متعدد اہم اجزاء میں قرآن کی روایت ان دونوں سے مختلف ہے۔ بعض چیزیں قرآن ان سے زائد بیان کرتا ہے، بعض ان سے کم، اور بعض میں ان کی تردید کرتا ہے۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلّم نے جو قصہ سنایا وہ بنی اسرائیل سے سن لیا ہوگا۔
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
— Fatah Muhammad Jalandhari
List of learnings from Surah Yusuf


