The Deen-e-Haqq
The Women (4:122)
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّۭا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِيلًۭا ١٢٢
And those who believe and do good, We will soon admit them into Gardens under which rivers flow, to stay there for ever and ever. Allah’s promise is ˹always˺ true. And whose word is more truthful than Allah’s?
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
Those who believe and do good deeds, We shall admit them to the gardens beneath which rivers flow. They shall live there forever, it being a real promise from Allah; and who is more truthful than Allah in his word?
— T. Usmani
But the ones who believe and do righteous deeds - We will admit them to gardens beneath which rivers flow, wherein they will abide forever. [It is] the promise of Allāh, [which is] truth, and who is more truthful than Allāh in statement.
— Saheeh International
رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، توا نہیں ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں انہیں ہم عنقریب داخل کریں گے ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا ہوسکتا ہے ؟
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کيے ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی،جن ميں وه هميشه رهيں گے اللہ کاو عدہ سچا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا
— Maulana Wahiduddin Khan
[https://quran.com/an-nisa/122]
This world is a world of trials.
Allah has promised recompense in the Hereafter.
The Gardens of Eternity and the Eternal Fires of Hell have been described.
The People who Believe, and do Acts of Reform, those are promised the Gardens of Eternity.
The ayat quoted above states: ' وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّۭا' , one of the translation quoted above is 'it being a real promise from Allah'.
Focussing on the word 'حَقًّۭا' , and looking up its usage throughout The Quran: The triliteral root ḥā qāf qāf (ح ق ق) occurs 287 times in the Quran: the various grammatical forms lend meanings such as: to justify, to prove true, to establish, to be guilty, to have right, worthy, deserving, truth, obligation, the inevitable reality.
Allah has sent guidance, and there are those people who reject the guidance that Allah's Messengers have been sent with. The Quran states that people who believe in the existence of Allah, yet do not believe His Messengers, are actually rejectors:
The Women (4:150-152)
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍۢ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍۢ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا۟ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ١٥٠
أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ حَقًّۭا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا ١٥١
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَمْ يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّنْهُمْ أُو۟لَـٰٓئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ١٥٢
Surely those who disbelieve in Allah and His Messengers, and wish to make division between Allah and His Messengers, and say, “We believe in some (messengers) and disbelieve in some others” and wish to take a way in between that,-
- those are the disbelievers in reality, and We have prepared a humiliating punishment for the disbelievers.
Those who have believed in Allah and His Messengers, and have made no division between any of them, to them He will give their rewards. Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.
— T. Usmani
یقیناً وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کا اور وہ چاہتے ہیں کہ تفریق کردیں اللہ اور اس کے رسولوں کے مابین اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ کو مانیں گے اور کچھ کو نہیں مانیں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بین بین ایک راستہ نکال لیں
یہی لوگ حقیقت میں پکے ّ کافر ہیں اور ہم نے ان کافروں کے لیے بڑا اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے
اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں پر اور انہوں نے ان میں سے کسی کے مابین کوئی تفریق نہیں کی یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اللہ ان کے اجر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
[https://quran.com/an-nisa/150-152]
Allah has indeed sent His Messengers with guidance.
It is a matter of faith to believe in all His Messengers, neither making any division between any of them (believing in some and rejecting some), nor rejecting them all.
Allah has kept His Promise to Adam, and sent guidance and scriptures through His Messengers:
The Cattle (6:91)
وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ إِذْ قَالُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍۢ مِّن شَىْءٍۢ ۗ قُلْ مَنْ أَنزَلَ ٱلْكِتَـٰبَ ٱلَّذِى جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورًۭا وَهُدًۭى لِّلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًۭا ۖ وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنتُمْ وَلَآ ءَابَآؤُكُمْ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِى خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ ٩١
And they[1] have not shown Allah His proper reverence when they said, “Allah has revealed nothing to any human being.” Say, ˹O Prophet,˺ “Who then revealed the Book brought forth by Moses as a light and guidance for people, which you split into separate sheets—revealing some and hiding much? You have been taught ˹through this Quran˺ what neither you nor your forefathers knew.” Say, ˹O Prophet,˺ “Allah ˹revealed it˺!” Then leave them to amuse themselves with falsehood.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
[1] Some Jews.
They did not hold Allah in due esteem when they said, “Allah has not sent down anything to a human being.” Say, “Who has sent down the Book brought by Mūsā as a light and a guidance for people, which you keep in various sheets (some of which) you disclose, and a lot of which you conceal, and (by which) you were taught what you did not know, neither you nor your fathers?” Say, “Allah.” Then leave them to play with whatever they indulge in.
— T. Usmani
And they did not appraise Allāh with true appraisal[1] when they said, "Allāh did not reveal to a human being anything." Say, "Who revealed the Scripture that Moses brought as light and guidance to the people? You [Jews] make it into pages, disclosing [some of] it and concealing much. And you[2] were taught that which you knew not - neither you nor your fathers." Say, "Allāh [revealed it]." Then leave them in their [empty] discourse, amusing themselves.
— Saheeh International
[1]i.e., they did not appreciate the extent of His ability and wisdom.
[2]The Jews, or it may refer to the believers, who are taught by the Qur’ān.
اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں
— Fatah Muhammad Jalandhari
اور انہوں نے ہرگز اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کا حق تھا جب انہوں نے کہا کہ نہیں اتاری ہے اللہ نے کسی بھی انسان پر کوئی بھی چیز آپ ﷺ پوچھئے کہ پھر کس نے اتاری تھی وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آئے تھے جو خود نور (روشن) تھی اور لوگوں کے لیے ہدایت بھی تھی ؟ تم نے اسے ورق ورق کردیا ہے اس (کے احکام) میں سے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپا کر رکھتے ہو اور تمہیں سکھائی گئی تھیں (تورات کے ذریعے سے) وہ سب باتیں جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباء و اَجداد کہیے (یہ سب نازل کیا تھا) اللہ نے پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ یہ اپنی کج بحثیوں کے اندر کھیلتے رہیں
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
اور انھوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب انھوں نے کہاکہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری کہو کہ وہ کتاب کس نے اتاری تھی جس کو لے کر موسیٰ آئے تھے، وہ روشن تھی اور رہنمائی تھی لوگوں کے واسطے، جس کو تم نے ورق ورق کر رکھا ہے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو اور تم کو وہ باتیں سکھائیں جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمھارے باپ دادا کہو کہ اللہ نے اتاری پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی کج بحثیوں میں کھیلتے رہیں
— Maulana Wahiduddin Khan
[https://quran.com/al-anam/91]
Humans have been given this chance at life, in this dunya, for a purpose.
We have a reckoning awaiting us.
We are here to generate the evidence for, or, against us.
We were made witness to the fact that Allah is our Rabb, and our nafs is in pledge (Q7:172-174).
Surah al-Ankabut (The Spider) begins with the statements that do humans think that Allah will take them on their statement that they believe?
The Spider (29:2)
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ يُّتۡرَكُوۡۤا اَنۡ يَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَـنُوۡنَ ٢
Do people think once they say, “We believe,” that they will be left without being put to the test?
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
Do people think that they will be left (at ease) only on their saying, “We believe” and will not be put to any test?
— T. Usmani
Do the people think that they will be left to say, "We believe" and they will not be tried?
— Saheeh International
Do men imagine that they will be left (at ease) because they say, We believe, and will not be tested with affliction?
— M. Pickthall
Do men think that they will be left alone on saying, "We believe", and that they will not be tested?
— A. Yusuf Ali
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ” ہم ایمان لائے “ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟
— Fe Zilal al-Qur'an
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اِتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ”ہم ایمان لائے“ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟1
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]جن حالات میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ تھے کہ مکہ ٔ معظمہ میں جو شخص اسلام قبول کرتا تھا اس پر آفات اور مصائب اور مظالم کا ایک طوفان ٹوٹ پڑتا تھا ۔ کوئی غلام یا غریب ہوتا تو اس کو بری طرح مارا پیٹا جاتا اور سخت ناقابل برداشت اذیتیں دی جاتیں۔ کوئی دوکاندار یا کاریگر ہوتا تو اس کی روزی کے دروازے بند کر دیے جاتے یہاں تک کہ بھوکوں مرنے کی نوبت آجاتی۔ کوئی کسی با اثر خاندان کا آدمی ہوتا تو اس کے اپنے خاندان کے لوگ اس کو طرح طرح سے تنگ کرتے اور اس کی زندگی اَجیرن کر دیتے تھے۔ ان حالات نے مکّے میں ایک سخت خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کر دیا تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے قائل ہو جانے کے باوجود ایمان لاتے ہوئے ڈرتے تھے ، اور کچھ لوگ ایمان لانے کے بعد جب دردناک اذیتوں سے دوچار ہوتے تو پست ہمت ہو کر کفار کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے تھے۔ ان حالات نے اگرچہ راسخ الایمان صحابہ کے عزم و ثبات میں کوئِ تزلزل پیدا نہ کیا تھا، لیکن انسانی فطرت کے تقاضے سے اکثر ان پر بھی ایک شدید اضطراب کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ چنانچہ اسی کیفیت کا ایک نمونہ حضرت خَبّاب بن اَرَت کی وہ روایت پیش کرتی ہے جو بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں مشرکین کی سختیوں سے ہم بری طرح تنگ آئے ہوئے تھے، ایک روز میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف رکھتے ہیں۔ میں نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ، آپ ہمارے لیے دعا نہیں فرماتے؟ یہ سُن کر آپ کا چہرہ جو ش اور جذبے سے سُرخ ہو گیا اور آپؐ نے فرمایا تم سے پہلے جو اہلِ ایمان گزر چکے ہیں ان پر اس سے زیادہ سختیاں توڑی گئی ہیں۔ ان میں سے کسی کو زمین میں گڑھا کھود کر بٹھایا جاتا اور اس کے سر پر آرہ چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر ڈالے جاتے۔ کسی کے جوڑوں پر لوہ کے کنگھے گھسے جاتے تھے تا کہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ خدا کی قسم، یہ کام پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک شخص صَنعاء سے حضر موت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا کوئی نہ ہو گا جس کا وہ خوف کرے۔
اس اضطرابی کیفیت کو ٹھنڈے صبر و تحمل میں تبدیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو سمجھاتا ہے کہ ہمارے جو وعدے دنیا اور آخرت کی کامرانیوں کے لیے ہیں، کوئی شخص مجرّد زبانی دعوائے ایمان کر کے ان کا مستحق نہیں ہو سکتا ، بلکہ ہر مدعی کو لازماً آزمائشوں کی بھٹی سے گزرنا ہو گا تا کہ وہ اپنے دعوے کی صداقت کا ثبوت دے۔ ہماری جنت اِتنی سستی نہیں ہے ، اور نہ دنیا ہی میں ہماری خاص عنایات ایسی ارزاں ہیں کہ تم بس زبان سے ہم پر ایمان لانے کا اعلان کرو اور ہم وہ سب کچھ تمہیں بخش دیں۔ ان کے لیے تو امتحان شرط ہے۔ ہماری خاطر مشقتیں اُٹھانی ہوں گی۔ جان و مال کا زیاں برداشت کرنا ہو گا۔ طر ح طرح کی سختیاں جھیلنی ہوں گی ۔ خطرات ، مصائب اورمشکلات کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ خوف سے بھی آزمائے جاؤگے اور لالچ سے بھی۔ ہر چیز جسے عزیز و محبوب رکھتے ہو، ہماری رضا پر اسے قربان کرنا پڑے گا، اور ہر تکلیف جو تمہیں ناگوار ہے ، ہمارے لیے برداشت کرنہ ہو گی۔ تب کہیں یہ بات کھلے گی کہ ہمیں ماننے کا جو دعویٰ تم نے کیا تھا وہ سچا تھا یا جھوٹا۔ یہ بات قرآن مجید میں ہر اُس مقام پر کہی گئی ہے جہاں مصائب و شدائد کے ہجوم میں مسلمانوں پر گھبراہٹ کا عالم طاری ہُوا ہے۔ ہجرت کے بعد مدینے کی ابتدائی زندگی میں جب معاشی مشکلات، بیرونی خطرات ، اور یہود و منافقین کی داخلی شرارتوں نے اہلِ ایمان کو سخت پریشان کر رکھا تھا، اس وقت فرمایا:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوْ ا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْ ا مِنْ قَبْلِکُمْ ، مَّسَّتْہُمُ الْبَاْ سَآ ءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِ لُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللہِ ط اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِیْب ٌo
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں گزرے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے (اہلِ ایمان) پر گزر چکے ہیں؟ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور وہ بلا مارے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اور اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے لوگ پکار اُٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی(تب انہیں مژدہ سنایا گیا) کہ خبر دار رہو ، اللہ کی مدد قریب ہے۔
اِسی طرح جنگِ اُحُد کے بعد جب مسلمانوں پر پھر مصائب کا ایک سخت دور آیا تو ارشاد ہوا:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوْ ا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللہُ الَّذِیْنَ جَا ھَدُوْ ا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ o
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد میں جان لڑانے والے اور پا مردی دکھانے والے کون ہیں؟
قریب قریب یہی مضمون سورۂ آلِ عمران ، آیت 179۔ سورۂ توبہ آیت1۶ اور سورۂ محمدؐ ، آیت 31 میں بھی بیان ہُوا ہے ۔ ان ارشادات سے اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت مسلمانوں کے ذہن نشین فرمائی ہے کہ آزمائش ہی وہ کسوٹی ہے جس سے کھوٹا اور کھرا پرکھا جاتا ہے ، کھوٹا خود بخود اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے ، اور کھرا چھانٹ لیا جاتا ہے تا کہ اللہ کے اُن انعامات سے سرفراز ہو جو صرف صاد ق الایمان لوگوں کا ہی حصّہ ہیں۔
کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟.[1]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]یعنی یہ گمان کہ صرف زبان سے ایمان لانے کے بعد، بغیر امتحان لیے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا، صحیح نہیں۔ بلکہ انہیں جان ومال کی تکالیف اور دیگر آزمائشوں کے ذریعے سے جانچا پر کھا جائے گا تاکہ کھرے کھوٹے کا، سچے جھوٹے کا اور مومن ومنافق کا پتہ چل جائے۔
کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی
— Fatah Muhammad Jalandhari
کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے [1]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]ہر مومن کا امتحان کیا جاتا ہے:یعنی زبان سے ایمان کا دعویٰ کرنا کچھ سہل نہیں جو دعویٰ کرے امتحان و ابتلا کے لئے تیار ہو جائے یہ ہی کسوٹی ہے جس پر کھرا کھوٹا کہا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ سب سے سخت امتحان انبیاء کا ہے، ان کے بعد صالحین کا، پھر درجہ بدرجہ ان لوگوں کا جو ان کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں۔ نیز امتحان آدمی کا اس کی دینی حیثیت کے موافق ہوتا ہے۔ جس قدر کوئی شخص دین میں مضبوط اور سخت ہو گا اسی قدر امتحان میں سختی کی جائے گی۔
کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو جانچا نہ جائے گا
— Maulana Wahiduddin Khan
[https://quran.com/al-ankabut/2]
Allah has sent the Deen-e-Haq through His Messengers, to establish it over all other Deens, in this world, and absolutely, completely, through Allah's Justice and Mercy, on The Day of Judgement:
The Deen-e-Haqq is about Reality.
We can pretend to be someone we are not, we can even lie to ourselves about it, but Allah has set a series of trials in this world to bring out the real person in us.
When we truly believe, and accordingly attempt to reform ourselves, then we can hope for Allah's Real Promise of gardens beneath which rivers flow, to dwell in there forever.
...
Search Result
https://corpus.quran.com/qurandictionary.jsp?q=Hqq#(69:1:1)
Related Posts
Understanding Q2:256 (No compulsion in Deen)






