that is beyond bounds
...
The Romans (30:21)
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةًۭ وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
And it is among His signs that He has created for you wives from among yourselves, so that you may find tranquility in them, and He has created love and kindness between you. Surely in this there are signs for a people who reflect.
— T. Usmani
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیے تمہارے لیے تمہاری نوع میں سے جوڑے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور رحمت پیدا کردی یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کریں
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
Allah has created much beauty and infused joy in the enjoyment of that which is desirable.
Allah has also set boundaries that define the lawful legal limits of everything.
Allah desires His slaves to be in a state of bliss.
Yet, for all His slaves to be in a state of bliss, everyone must be bound and restricted by a certain set of laws, such that everyone may flourish.
When those bounds are breached, evil makes inroads to find ways to destroy the fundamental building block of society: the family unit.
The Cow (2:102)
وَٱتَّبَعُوا۟ مَا تَتْلُوا۟ ٱلشَّيَـٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَـٰنَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَـٰنُ وَلَـٰكِنَّ ٱلشَّيَـٰطِينَ كَفَرُوا۟ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحْرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَـٰرُوتَ وَمَـٰرُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌۭ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا۟ لَمَنِ ٱشْتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِنْ خَلَـٰقٍۢ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ١٠٢
And follow that which the devils falsely related against the kingdom of Solomon. Solomon disbelieved not; but the devils disbelieved, teaching mankind magic and that which was revealed to the two angels in Babel, Harut and Marut. Nor did they (the two angels) teach it to anyone till they had said: We are only a temptation, therefore disbelieve not (in the guidance of Allah). And from these two (angles) people learn that by which they cause division between man and wife; but they injure thereby no-one save by Allah's leave. And they learn that which harmeth them and profiteth them not. And surely they do know that he who trafficketh therein will have no (happy) portion in the Hereafter; and surely evil is the price for which they sell their souls, if they but knew.
— M. Pickthall
اور وہ اس چیز کے پیچھے پڑگئے جس کو شیاطین، سلیمان کی سلطنت پر لگاکر پڑھتے تھے حالاں کہ سلیمان نے کفر نہیں کیا، بلکہ یہ شیاطین تھے جنھو ں نے کفر کیا وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور وہ اس چیز میں پڑگئے جو بابل میں دو فرشتوں ، ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، جب کہ ان کا حال یہ تھا کہ جب بھی وہ کسی کو اپنا یہ فن سکھاتے تو اس سے کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش کے ليے ہیں پس تم منکرنہ بنو مگر وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جس سے مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈال دیں حالاں کہ وہ اللہ کے اِذن کے بغیر اس سے کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے اور وہ ایسی چیز سیکھتے جوان کو نقصان پہنچائے اور نفع نہ دے اور وہ جانتے تھے کہ جو کوئی اس چیز کا خریدار ہو، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں کیسی بری چیز ہے جس کے بدلے انھوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا کاش، وہ اس کو سمجھتے
— Maulana Wahiduddin Khan
Magic has famously been used for manipulation of feelings. Throughout history, we have been introduced to love potions and other such means which can affect changes in a person's thoughts, and compel them to behave recklessly in pursuit of desire. Magic bewitches vision. Therefore:
The Light (24:30-34)
24:30
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا۟ مِنْ أَبْصَـٰرِهِمْ وَيَحْفَظُوا۟ فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا يَصْنَعُونَ ٣٠
Tell the believing men to reduce [some] of their vision[1] and guard their private parts.[2] That is purer for them. Indeed, Allāh is [fully] Aware of what they do.
— Saheeh International
[1]Looking only at what is lawful and averting their eyes from what is unlawful.
[2]From being seen and from unlawful acts.
مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں[1] ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت رکھیں[2]۔ یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے.
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]جب کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لئے اجازت لینے کو ضروری قرار دیا تو اس کے ساتھ ہی غض بصر (آنکھوں کو پست رکھنے یا بند رکھنے) کا حکم دے دیا تاکہ اجازت طلب کرنے والا بھی بالخصوص اپنی نگاہوں پر کنٹرول رکھے۔
[2]یعنی ناجائز استعمال سے اس کو بچائیں یا انہیں اس طرح چھپا کر رکھیں کہ ان پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اس کے یہ دونوں مفہوم صحیح ہیں کیوں کہ دونوں ہی مطلوب ہیں۔ علاوہ ازیں نظروں کی حفاظت کا پہلے ذکر کیا کیونکہ اس میں بےاحتیاطی ہی، حفظ فروج سے غفلت کا سبب بنتی ہے۔
24:31
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَـٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَـٰرِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ ءَابَآئِهِنَّ أَوْ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَآئِهِنَّ أَوْ أَبْنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ إِخْوَٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوْ نِسَآئِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّـٰبِعِينَ غَيْرِ أُو۟لِى ٱلْإِرْبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفْلِ ٱلَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا۟ عَلَىٰ عَوْرَٰتِ ٱلنِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ٣١
And tell the believing women to reduce [some] of their vision[1] and guard their private parts and not expose their adornment[2] except that which [necessarily] appears thereof[3] and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment [i.e., beauty] except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess [i.e., slaves], or those male attendants having no physical desire,[4] or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allāh in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.
— Saheeh International
[1]Looking only at what is lawful and averting their eyes from what is unlawful.
[2]Both natural beauty, such as hair or body shape, and that with which a woman beautifies herself of clothing, jewelry, etc.
[3]i.e., the outer garments or whatever might appear out of necessity, such as a part of the face or the hands.
[4]Referring to an abnormal condition in which a man is devoid of sexual feeling.
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں[1] اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں[2]، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے[3] اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں[4]، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں[5]، سوائے اپنے خاوندوں کے[6] یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے[7] یا اپنے میل جول کی عورتوں کے[8] یا غلاموں کے [9]یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں[10] یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں[11]۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے[12]، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ.[13]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]عورتیں بھی اگرچہ غض بصر اور حفظ فروج کے پہلے حکم میں داخل تھیں، جو تمام مومنین کو دیا گیا ہے اور مومنین میں مومن عورتیں بھی بالعموم شامل ہی ہوتی ہیں لیکن ان مسائل کی اہمیت کے پیش نظر عورتوں کو بھی بطور خاص دوبارہ وہی حکم دیا جارہا ہے جس سے مقصود تاکید ہے بعض علما نے اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح مردوں کے لئے عورتوں کو دیکھنا ممنوع ہے اسی طرح عورتوں کے لئے مردوں کو دیکھنا مطلقاً ممنوع ہے۔ اور بعض نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے جس میں حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کا حبشیوں کا کھیل دیکھنے کا ذکر ہے (صحيح بخاري، كتاب الصلاة، باب أصحاب الحراب في المسجد) بغیر شہوت کے مردوں کی طرف دیکھنے کی عورتوں کو اجازت دی ہے۔
[2]زینت سے مراد وہ لباس ہے اور زیور ہے جو عورتیں اپنے حسن وجمال میں مزید نکھار پیدا کرنے کے لئے پہنتی ہیں، جس کی تاکید انہیں اپنے خاوندوں کے لئے کی گئی ہے۔ جب لباس اور زیور کا ا ظہار غیر مردوں کے سامنے عورت کے لئے ممنوع ہے جسم کو عریاں اور نمایاں کرنے کی اجازت اسلام میں کب ہوسکتی ہے؟ یہ تو بطریق اولیٰ حرام اور ممنوع ہوگا۔
[3]اس سے مراد وہ زینت اور حصہ جسم ہے جس کا چھپانا اور پردہ کرنا ممکن نہ ہو۔ جیسے کسی کو کوئی چیز پکڑاتے یا اس سے لیتے ہوئے ہتھیلیوں کا، یا دیکھتے ہوئے آنکھوں کا ظاہر ہوجانا۔ اس ضمن میں ہاتھ میں جو انگوٹھی پہنی ہوئی یا مہندی لگی ہو، آنکھوں میں سرمہ، کاجل ہو یا لباس اور زینت کو چھپانے کے لئے جو برقعہ یا چادر لی جاتی ہے، وہ بھی ایک زینت ہی ہے۔ تاہم یہ ساری زینتیں ایسی ہیں، جن کا اظہار بوقت ضرورت یا بوجہ ضرورت مباح ہے۔
[4]تاکہ سر، گردن، سینے اور چھاتی کا پردہ ہوجائے، کیونکہ انہیں بھی بےپردہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
[5]یہ وہی زینت (سنگھار) یا آرائش ہے جسے ظاہر کرنے کی ممانعت اس سے پہلے کی گئی تھی۔ یعنی لباس اور زیور وغیرہ کی، جو چادر یا برقعہ کے نیچے ہوتی ہے۔ یہاں اس کا ذکر اب استثنا کے ضمن میں آیا ہے۔ یعنی ان ان لوگوں کے سامنے اس زینت کا اظہار جائز ہے۔
[6]ان میں سرفہرست خاوند ہے، اسی لئے خاوند کو سب پر مقدم بھی کیا گیا ہے۔ کیونکہ عورت کی ساری زینت خاوند ہی کے لئے ہوتی ہے، اور خاوند کے لئے تو عورت کا سارا بدن ہی حلال ہے۔ اس کے علاوہ جن محارم اور دیگر بعض افراد کا ہر وقت گھر میں آنا جا نارہتا ہے اور قربت اور رشتہ داری کی وجہ سے یا دیگر وجوہ سے طبعی طور پر ان کی طرف جنسی میلان بھی نہیں ہوتا، جس سے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ تو شریعت نے ایسے لوگوں کے سامنے، جن سے کوئی خطرہ نہ ہو اور تمام محارم کے سامنے زینت ظاہر کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ اس مقام پر ماموں اور چچا کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک یہ بھی ان محارم میں سے ہیں جن کے سامنے اظہار زینت کی اجازت دی گئی ہے اور بعض کے نزدیک یہ محارم میں سے نہیں ہیں (فتح القدیر)۔
[7]باپ میں دادا، پردادا، نانا، پرنانا اور اس سے اوپر سب شامل ہیں۔ اسی طرح خسر میں خسر کا باپ، دادا، پردادا، اوپر تک۔ بیٹوں میں پوتا، پرپوتا، نواسہ پرنواسہ نیچے تک۔ خاوندوں کے بیٹوں میں پوتے، پرپوتے، نیچے تک، بھائیوں میں تینوں قسم کے بھائی (عینی، اخیافی اور علاتی) اور ان کے بیٹے، پوتے، پرپوتے، نواسے، نیچے تک۔ بھتیجوں میں ان کے بیٹے، نیچے تک اور بھانجوں میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد شامل ہے۔
[8]ان سے مراد مسلمان عورتیں ہیں جن کو اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ وہ کسی عورت کی زینت، اس کا حسن و جمال اور جسمانی خدوخال اپنے خاوند کے سامنے بیان کریں۔ ان کے علاوہ کسی بھی کافر عورت کے سامنے اظہار زینت منع ہے یہی رائے حضرت عمرو عبداللہ بن عباس (رضي الله عنه) ما ومجاھد اور امام احمد بن حنبل سے منقول ہے۔ بعض نے اس سے وہ مخصوص عورتیں مراد لی ہیں، جو خدمت وغیرہ کے لئے ہر وقت ساتھ رہتی ہیں، جن میں باندیاں (لونڈیاں) بھی شامل ہیں۔
[9]بعض نے اس سے مراد صرف لونڈیاں اور بعض نے صرف غلام لئے ہیں اور بعض نے دونوں ہی۔ حدیث میں بھی صراحت ہے کہ غلام سے پردے کی ضرورت نہیں ہے۔ (أبو داود- كتاب اللباس باب في العبد ينظر إلى شعر مولاته) اس طرح بعض نے اسے عام رکھا ہے جس میں مومن اور کافر دونوں غلام شامل ہیں۔
[10]بعض نے ان سے صرف وہ افراد مراد لئے ہیں جن کا گھر میں رہنے سے، کھانے پینے کے سوا کوئی اور مقصد نہیں۔ بعض نے بےوقوف ، بعض نے نامرد ا ور خصی اور بعض نے بالکل بوڑھے مراد لئے ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ جن کے اندر بھی قرآن کی بیان کردہ صفت پائی جائے گی، وہ سب اس میں شامل اور دوسرے خارج ہوں گے۔
[11]ان سے ایسے بچے خارج ہوں گے جو بالغ ہوں یا بلوغت کے قریب ہوں کیونکہ وہ عورتوں کے پردوں کی باتوں سے واقف ہوتے ہیں۔
[12]تاکہ پازیبوں کی جھنکار سے مرد اس کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ اسی میں اونچی ایڑی کے وہ سینڈل بھی آجاتے ہیں جنہیں عورت پہن کر چلتی ہے ٹک ٹک کی آواز، زیور کی جھنکار سے کم نہیں ہوتی۔ اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ عورت کے لئے خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں، جو عورت ایسا کرتی ہے، وہ بدکار ہے (ترمذي، أبواب الاستئذان، أبو داود، كتاب الترجل)۔
[13]یہاں پردے کے احکام میں توبہ کا حکم دینے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان احکام کی جو خلاف ورزی بھی تم کرتے رہے ہو، وہ چونکہ اسلام سے قبل کی باتیں ہیں، اس لئے اگر تم نے سچے دل سے توبہ کرلی اور ان احکام مذکورہ کے مطابق پردے کا صحیح اہتمام کرلیا تو فلاح وکامیابی اور دنیا وآخرت کی سعادت تمہارا مقدر ہے
24:32
وَأَنكِحُوا۟ ٱلْأَيَـٰمَىٰ مِنكُمْ وَٱلصَّـٰلِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَآئِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا۟ فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ ٣٢
And marry the unmarried among you and the righteous among your male slaves and female slaves. If they should be poor, Allāh will enrich them from His bounty, and Allāh is all-Encompassing and Knowing.
— Saheeh International
تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو[1] اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی[2]۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا[3]۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے.
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]۔أَيَامَى، أَيِّمٌ کی جمع ہے، أَيِّمٌ ایسی عورت کو کہا جاتا ہے جس کا خاوند نہ ہو، جس میں کنواری، بیوہ اور مطلقہ تینوں آجاتی ہیں۔ اور ایسے مرد کو بھی أَيِّمٌ کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو۔ آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ نکاح کر دو، یہ نہیں فرمایا کہ نکاح کر لو، کہ مخاطب نکاح کرنے والے مردو عورت ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی۔ جس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح امر کے صیغے سے بعض نے استدلال کیا ہے کہ نکاح کرنا واجب ہے، جب کہ بعض نے اسے مباح اور بعض نے مستحب قرار دیا ہے۔ تاہم استطاعت رکھنے والے کے لئے یہ سنت موکدہ بلکہ بعض حالات میں واجب ہے اور اس سے اعراض سخت وعید کا باعث ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے «وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي» (البخاري نمبر 50 63، ومسلم، نمبر 1020 ) 'جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیںL۔
[2]یہاں صالحیت سے مراد ایمان ہے، اس میں اختلاف ہے کہ مالک اپنے غلام اور لونڈیوں کو نکاح کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں یا نہیں؟ بعض اکراہ کے قائل ہیں، بعض نہیں۔ تاہم اندیشہ ضرر کی صورت میں شرعاً مجبور کرنا جائز ہے۔ بصورت دیگر غیر مشروع (ایسرالتفاسیر)۔
[3]یعنی محض غربت اور تنگ دستی نکاح میں مانع نہیں ہونی چاہیئے۔ ممکن ہے نکاح کے بعد اللہ ان کی تنگ دستی کو اپنے فضل سے وسعت وفراخی میں بدل دے۔ حدیث میں آتا ہے۔ تین شخص ہیں جن کی اللہ ضرور مدد فرماتا ہے۔ 1۔ نکاح کرنے والا، جو پاک دامنی کی نیت سے نکاح کرتا ہے۔ 2۔ مکاﺗب غلام، جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہے۔ 3۔ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ (ترمذي- أبواب فضائل الجهاد، باب ما جاء في المجاهد، والمكاتب والنكاح)۔
24:33
وَلْيَسْتَعْفِفِ ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۗ وَٱلَّذِينَ يَبْتَغُونَ ٱلْكِتَـٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًۭا ۖ وَءَاتُوهُم مِّن مَّالِ ٱللَّهِ ٱلَّذِىٓ ءَاتَىٰكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا۟ فَتَيَـٰتِكُمْ عَلَى ٱلْبِغَآءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًۭا لِّتَبْتَغُوا۟ عَرَضَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ مِنۢ بَعْدِ إِكْرَٰهِهِنَّ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٣٣
But let them who find not [the means for] marriage abstain [from sexual relations] until Allāh enriches them from His bounty. And those who seek a contract [for eventual emancipation] from among whom your right hands possess[1] - then make a contract with them if you know there is within them goodness and give them from the wealth of Allāh which He has given you. And do not compel your slave girls to prostitution, if they desire chastity, to seek [thereby] the temporary interests of worldly life. And if someone should compel them, then indeed, Allāh is [to them], after their compulsion, Forgiving and Merciful.
— Saheeh International
[1]- i.e., those slaves who desire to purchase their freedom from their owners for a price agreed upon by both.
اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیئے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے[1] یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو[2]۔ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی[3] دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو[4] اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے.[5]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]حدیث میں پاک دامنی کے لئے، جب تک شادی کی استطاعت حاصل نہ ہوجائے، نفلی روزے رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ فرمایا (اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، اسے (اپنے وقت پر) شادی کرلینی چاہیئے، اس لئے کہ اس سے آنکھوں اور شرم گاہ کی حفاظت ہوجاتی ہے اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا، اسے چاہیئے کہ وہ (کثرت سے نفلی) روزے رکھے، روزے اس کی جنسی خواہش کو قابو میں رکھیں گے( البخاري، كتاب الصوم، باب الصوم لمن خاف على نفسه العزوبة مسلم- أول كتاب النكاح)۔
[2]مُكَاتَبٌ، اس غلام کوکہا جاتا ہے جو اپنے مالک سے معاہدہ کرلیتا ہے کہ میں اتنی رقم جمع کرکے ادا کردوں گا تو آزادی کا مستحق ہوجاؤں گا۔ (بھلائی نظر آنے) کا مطلب ہے، اس کے صدق وامانت پر تمہیں یقین ہو یا کسی حرفت وصنعت سے وہ آگاہی رکھتا ہو۔ تاکہ وہ محنت کرکے کمائے اور رقم ادا کردے۔ اسلام نے چونکہ زیادہ سے زیادہ غلامی کی حوصلہ شکنی کی پالیسی اپنائی تھی، اس لئے یہاں بھی مالکوں کو تاکید کی گئی کہ مکاتبت کے خواہش مند غلاموں سے معاہدہ کرنے میں تامل نہ کرو بشرطیکہ تمہیں ان کے اندر ایسی بات معلوم ہو کہ جس سے تمہاری رقم کی ادائیگی بھی ممکن ہو۔ بعض علما کے نزدیک یہ امروجوب کے لئے اور بعض کے نزدیک استحباب کے لئے ہے۔
[3]اس کا مطلب ہے کہ غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اس نے جو معاہدہ کیا ہے اور اب وہ رقم کا ضرورت مند ہے تاکہ معاہدے کے مطابق وہ رقم ادا کردے تو تم بھی اس کے ساتھ مالی تعاون کرو، اگر اللہ نے تمہیں صاحب حیثیت بنایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے جو مصارف ثمانیہ (التوبہ: 60) میں بیان فرمائے ہیں، ان میں ایک وفي الرِّقَابِ بھی ہے جس کے معنی ہیں، گردنیں آزاد کرانے میں۔ یعنی غلاموں کی آزادی پر بھی زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔
[4]زمانۂ جاہلیت میں لوگ محض دنیوی مال کے لئے اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے۔ چنانچہ خواہی نخواہی انہیں یہ داغ ذلت برداشت کرنا پڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا إِنْ أَرَدْنَ غالب احوال کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ مقصد یہ نہیں ہے کہ اگر وہ بدکاری کو پسند کریں تو پھر تم ان سے یہ کام کروالیا کرو۔ بلکہ حکم دینا یہ مقصود ہے کہ لونڈیوں سے، دنیا کے تھوڑے سے مال کے لئے، یہ کام مت کرواؤ، اس لئے کہ اس طرح کی کمائی ہی حرام ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔
[5]یعنی جن لونڈیوں سے جبراً یہ بےحیائی کا کام کروایا جائے گا، تو گناہ گار مالک ہوگا یعنی جبر کرنے والا، نہ کہ لونڈی جو مجبور ہے۔ حدیث میں آتا ہے ”میری امت سے، خطا، نسیان اور ایسے کام جو جبر سے کرائے گئے ہوں، معاف ہیں“۔ (ابن ماجه، كتاب الطلاق، باب طلاق المكره والناسي)۔
24:34
وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ ءَايَـٰتٍۢ مُّبَيِّنَـٰتٍۢ وَمَثَلًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ ٣٤
And We have certainly sent down to you distinct verses[1] and examples from those who passed on before you and an admonition for those who fear Allāh.
— Saheeh International
[1]- i.e., rulings and ordinances, in particular those in this sūrah.
ہم نے تمہاری طرف کھلی اور روشن آیتیں اتار دی ہیں اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت.
— Maulana Muhammad Junagarhi
Children are born without knowing anything, without the knowledge of good and evil. Children are innocent. As the human body matures, it develops consciousness of sexual attraction and desires. Men and women both undergo biological changes, and experience the consequent emotions. It is important to guard oneself from unlawful exposure, so as to be able to keep up the guard. Beautifying oneself is not a crime, rather it is desirable. Women have been made attractive, and they are required to guard their beauty, not displaying other than what is normally apparent to those who are not their 'mahrams'. Even the list of 'mahrams' is given in Q24:31.
Surah An-Nur (Q24) begins with the commandment that this Surah is (وَفَرَضۡنٰهَا) ordained/compulsory. The very next ayaat give clear instructions on how to deal with adultery, the accusations of adultery, and the doubts of adultery. It forbids malicious slander, and ordains that permission be sought before entering others' homes, not minding if permission is not given, and if allowed to enter then to enter saluting with peace. Adultery is a crime that is forbidden not only in Abrahamic scriptures, but it is looked down upon by most of humanity. It is a moral corruption. It not only abuses love for selfish purposes, it also weakens or destroys the family unit, and thus the society. Sexual love is permitted only in a religio-legal bond, where it has the blessings of God, families, and society. A religio-legal bond seeks to ensure that the basic rights of both man and his wife are taken care of, and they dwell in mutual love and understanding.
Secular Laws are manmade. As societies are moving away from religion, they seek to solve their issues by formulating laws which seem good to them. These have given rise to common-in-law relationships, LGBTQ+, and other forbidden relationships. Moreover, the recently released Epstein files are a testament to the evil in people who follow their desires simply because they can afford to. The 'MeToo' movement was another evil exposed. These crimes are not new. They are as ancient as history. To overcome the darkness, we need to seriously and humbly repent and revert to the True God and His Laws, for our own sake.
Establishing Allah's Deen is necessary for humanity to flourish, both, in the Here, and in the Hereafter. All Abrahamic religions have been given the same Deen, and each revealed Book contains its own Shariah Laws to govern and judge by:
...






