Tuesday, 4 August 2026

Circumventing the Law

...

Joseph (12:40)


مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٤٠


You worship not besides Him except [mere] names you have named them,[1] you and your fathers, for which Allāh has sent down no evidence. Legislation is not but for Allāh. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.

— Saheeh International
[1]- The false objects of worship which you have called "gods."

Those whom ye worship beside Him are but names which ye have named, ye and your fathers. Allah hath revealed no sanction for them. The decision rests with Allah only, Who hath commanded you that ye worship none save Him. This is the right religion, but most men know not.

— M. Pickthall


نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


تم اس کے سوا نہیں پوجتے ہو مگر کچھ ناموں کو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ ليے ہیں اللہ نے اس کی کوئی سند نہیں اتاری اقتدار صرف اللہ کے ليے ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/40]


Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎  is the true King. 

Legislation belongs to Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎  . 

By inventing other gods, humans are able to circumvent divine laws in the life of this world. 

Laws are decreed to govern. 

Sometimes, a person's soul (nafs) desires something that is not legally possible. Thus, the need to look for loopholes, or how to circumvent the law. Thus, the need for legal experts. 

Experts in Law are lawyers, barristers, judges, attorneys, etc. 

Experts in religious law are prophets, messengers, 'fuqaha', 'canon lawyers', 'clerics', 'theologians', etc. 


Surah Yusuf presents examples of laws of the king being bypassed to achieve a goal:

The first such example is when, despite Joseph (Yusuf عليه السلام)'s innocence, he is threatened with imprisonment, and then consequently imprisoned for not complying to the invitations to sin.  

The second example is when the father advises his sons to enter Egypt through different gates. 

The third example is when Joseph (Yusuf عليه السلام) wants to take his younger brother from his elder brothers, yet he cannot do so, according to the Law of the King: 

Joseph (12:76)


فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ ٧٦


So, he started with their bags before (searching) the bag of his brother, then, recovered it from the bag of his brother.This is how We planned for Yūsuf. He had no right to take his brother according to the law of the king, unless Allah so willed. We elevate in ranks whomsoever We will. Above every man of knowledge, there is someone more knowledgeable.

— T. Usmani


So he began (the search) with their baggage, before (he came to) the baggage of his brother: at length he brought it out of his brother's baggage. Thus did We plan for Joseph. He could not take his brother by the law of the king except that Allah willed it (so). We raise to degrees (of wisdom) whom We please: but over all endued with knowledge is one, the All-Knowing.

— A. Yusuf Ali


تب یُوسُف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خُرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کر لی۔۔۔۔اِس طرح ہم نے یُوسُف ؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔1 اُس کا یہ کا م نہ تھا کہ بادشاہ کے دین(یعنی مصر کے شاہی قانون)میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔2 ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایساہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

[1]یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اس پورے سلسلۂ واقعات میں وہ کون سی تدبیر ہے جو حضرت یوسفؑ کی تائید میں براہِ راست خدا کی طرف سے کی گئی؟ ظاہر ہے کہ پیالہ رکھنے کی تدبیر تو حضرت یوسفؑ نے خود کی تھی۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ سرکاری ملازموں کا چوری کے شبہہ میں قافلے والوں کو روکنا بھی حسبِ معمول و ہ کام تھا جو ایسے مواقع پر سب سرکاری ملازم کیا کر تے تھے۔ پھر وہ خاص خدائی تدبیر کون سی ہے ؟ اوپر کی آیات میں تلاش کرنے سے اس کے سوا کسی دوسری چیز کو اس کا مقصد نہیں ٹھیرا یا جا سکتا کہ سرکاری ملازموں نے خلافِ معمول خود مشتبہ ملزموں سے چور کی سزا پوچھی، اور انہوں نے وہ سزا بتائی جو شریعتِ ابراہیمی کی رو سے چور کو دی جاتی تھی۔ اس کے دو فائدے ہوئے ایک یہ کہ حضرت یوسفؑ کو شریعتِ ابراہیمی پر عمل کا موقع مل گیا ۔ دوسرا یہ کہ بھائی کو حوالات میں بھیجنے کے بجائے اب وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔

[2]یعنی یہ بات حضرت یوسف ؑ کی شان پیغمبری کے شایاں نہ تھی کہ وہ اپنے ایک ذاتی معاملہ میں شاہ مصر کے قانون پر عمل کرتے۔ اپنے بھائی کو روک رکھنے کے لیے انہوں نے خود جو تدبیر کی تھی اس میں خلل رہ گیا تھا کہ بھائی کو روکا تو ضرور جاسکتا تھا مگر شاہ مصر کے قانونِ تعزیرات سے کام لینا پڑتا، اور یہ اس پیغمبر کی شان کے مطابق نہ تھا جس نے اختیاراتِ حکومت غیر اسلامی قوانین کی جگہ اسلامی شریعت نافذ کرنے کے لیے اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ اگر اللہ چاہتا تو اپنے نبی کو اس بدنما غلطی میں مبتلا ہوجانے دیتا، مگر اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ یہ دھبہ اس کے دامن پر رہ جائے، اس لیے اس نے براہ راست اپنی تدبیر سے یہ راہ نکال دی کہ اتفاقاً برادران یوسف ؑ سے چور کی سزا پوچھ لی گئی اور انہوں نے اس کے لیے شریعتِ ابراہیمی کا قانون بیان کردیا۔ یہ چیز اس لحاظ سے بالکل برمحل تھی کہ برادران یوسف ؑ مصری رعایا نہ تھے، ایک آزاد علاقے سے آئے ہوئے لوگ تھے، لہٰذا اگر وہ خود اپنے ہاں کے دستور کے مطابق اپنے آدمی کو اُس شخص کی غلامی میں دینے کے لیے تیار تھے جس کا مال اس نے چرایا تھا، تو پھر مصری قانونِ تعزیرات سے اس معاملہ میں مدد لینے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہی وہ چیز ہے جس کو بعد کی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی علمی برتری سے تعبیر فرمایا ہے۔ ایک بندے کے لیے اس سے بڑھ کر بلندیِ درجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ اگر وہ کبھی بشری کمزوری کی بنا پر خود کسی لغزش میں مبتلا ہو رہا ہو تو اللہ تعالیٰ غیب سے اس کو بچانے کا انتظام فرمادے۔ ایسا بلند مرتبہ صرف انہی لوگوں کو ملا کرتا ہے جو اپنی سعی و عمل سے بڑی بڑی آزمائشوں میں اپنا ”محسن“ ہونا ثابت کرچکے ہوتے ہیں۔ اور اگر چہ حضرت یوسف ؑ صاحبِ علم تھے، خود بہت دانشمندی کے ساتھ کام کرتے تھے، مگر پھر بھی اس موقع پر ان کے علم میں ایک کسر رہ ہی گئی اور اُسے اس ہستی نے پورا کیا جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے۔

یہاں چند امور اور وضاحت طلب رہ جاتے ہیں جن پر ہم مختصر کلام کریں گے:

(١) عام طور پر اس آیت کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ ”یوسف ؑ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتا تھا“۔ یعنی ماکان لیاخذ کو مترجمین و مفسرین عدم قدرت کے معنی میں لیتے ہیں نہ کہ عدم صحت اور عدم مناسبت کے معنی میں۔ لیکن اوّل تو یہ ترجمہ و تفسیر عربی محاورے اور قرآنی استعمالات دونوں کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ عربی میں عموماً ماکان لہ بمعنی ما ینبغی لہ، ماصح لہ، ما استقام لہُ، وغیرہ آتا ہے اور قرآن میں بھی یہ زیادہ تر اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلاً مَا کَانَ اللہُ اَن یَّتَّخِذَ مِن وَّلَدٍ۔ مَاکَانَ لَنَآ اَن نُّشرِکَ بِا للہِ مِن شَی ءٍ۔ مَا کَانَ اللہُ لِیُطلِعَکُم عَلَی الغَیبِ۔ مَاکَانَ اللہُ لِیُضِیعَ اِیمَانَکُم۔ فَمَا کَانَ اللہُ لِیَظلِمَہُم۔ مَاکَانَ اللہُ لِیَذَرَالمُوٴمِنِینَ عَلیٰ مَآ اَنتُم عَلَیہِ۔ مَا کَانَ ،ِمُوٴمِنٍ اَن یَّقتُلَ مُوٴ مِنًا۔ دوسرے اگر اس کے وہ معنی لیے جائیں جو مترجمین و مفسرین بالعموم بیان کرتے ہیں تو بات بالکل مہمل ہوجاتی ہے۔ بادشاہ کے قانون میں جور کو نہ پکڑسکنے کی آخر وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ کیا دنیا میں کبھی کوئی سلطنت ایسی بھی رہی ہے جس کا قانون چور کو گرفتار کرنے کی اجازت نہ دیتا ہو؟

(2) اللہ تعالیٰ نے شاہی قانون کے لیے ”دین الملک“ کا لفظ استعمال کرکے خود اُس مظلب کی طرف اشارہ فرمادیا ہے جو ماکان لیاخذ سے لیا جانا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کا پیغمبر زمین میں”دین اللہ“جاری کرنے کے لیے مبعوث ہُوا تھا نہ کہ ”دین الملک“ جاری کرنے کے لیے۔ اگر حالات کی مجبوری سے اُس کی حکومت میں اُس وقت تک پوری طرح دین الملک کی جکہ دین اللہ جاری نہ ہوسکا تھا تب بھی کم از کم پیغمبر کا اپنا کام تو یہ نہ تھا کہ اپنے ایک شخصی معاملہ میں دین الملک پر عمل کرے۔ لہٰذا حضرت یوسف ؑ کا دین الملک کے مطابق اپنے بھائی کو نہ پکڑنا اس بنا پر نہیں تھا کہ دین الملک میں ایسا کرنے کی گنجائش نہ تھی، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ پیغمبر ہونے کی حیثیت سے اپنی ذاتی حد تک دین اللہ پر عمل کرنا ان کا فرض تھا اور دین الملک کی پیروی ان کے لیے قطعاً نامناسب تھی۔

(3) قانون مُلکی(Law of the land ) کے یے لفظ ”دین“ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے معنی دین کی وسعت پوری طرح واضح کردی ہے۔ اِس سے اُن لوگوں کے تصورِ دین کی جڑ کٹ جاتی ہےجو انبیاء علیہم السلام کی دعوت کو صرف عام مزہبی معنوں میں خدائے واحد کی پوجا کرانے اور محض چند مزہبی مراسم و عقائد کی پابندی کرالینے تک محدود سمجھتے ہیں، اور یہ خیال کرتے ہیں کہ انسانی تمدّن ، سیاست، معیشت، عدالت، قانون اور ایسے ہی دوسرے دنیوی امور کا کوئی تعلق دین سے نہیں ہے، یا اگر ہے بھی تو ان اُمور کے بارے میں دین کی ہدایات محض اختیاری سفارشات ہیں جب پر اگر عمل ہوجائے تو اچھا ہے ورنہ انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے اصول و ضوابط قبول کرلینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ سراسر گمراہانہ تصورِدین، جس کا ایک مدت سے مسلمانوں میں چرچا ہے، جو بہت بڑی حد تک مسلمانوں کو اسلامی نظامِ زندگی کے عیام کی سعی سے غافل کرنے کا ذمہ دار ہے، جس کی بدولت مسلمان کفر و جاہلیت کے نظامِ زندگی پر نہ صرف راضی ہوئے بلکہ ایک نبی کی سنت سمجھ کر اس نظام کے پُرزے بننے اور اس کو خود چلانے کے لیے بھی آمادہ ہوگئے، اِس آیت کی رو سے قطعاً غلط ثابت ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ صاف بتارہا ہے کہ جس طرح نماز، روزہ اور حج دین ہے اسی طرح وہ قانون بھی دین ہے جس پر سوسائٹی کا نظام اور ملک کا انتظام چلایا جاتا ہے۔ لہٰذا اِنَّ الدِّینَ عِندَاللہِ الاِسلَامُ اوروَمَن یَّبتَغِ غَیرَالاِسلَامِ دِینًا فَلَن یُّقبَلَ مِنہُ وغیرہ آیاتمیں جس دین کی اطاعت کا مطالبہ کیا گیا ہے اس سے مراد صرف نماز، روزہ ہی نہیں ہے بلکہ اسلام کا اجتماعی نظام بھی ہے جس سے ہٹ کر کسی دوسرے نظام کی پیروی خدا کے ہاں ہرگز مقبول نہیں ہوسکتی۔

(4) سوال کیا جاسکتا ہے کہ اس سے کم از کم یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت تک مصر کی حکومت میں”دین الملک“ ہی جاری تھا۔ اب اگر اس حکومت کے حاکم اعلیٰ حضرت یوسف ؑ ہی تھے، جیسا کہ تم خود پہلے ثابت کرچکے ہو، تو اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ ، خدا کے پیغمبر، خود اپنے ہاتھوں سے ملک میں ”دین الملک“ جاری کررہے تھے۔ اس کے بعد اگر اپنے ذاتی معاملہ میں حضرت یوسف ؑ نے ”دین الملک“ کے بجائے شریعت ابراہیمی پر عمل کیا بھی تو اس سے فرق کیا واقع ہُوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ مامور تو دین اللہ جاری کرنے ہی پر تھے اور یہی ان کا پیغمبرانہ مشن اور ان کی حکومت کا مقصد تھا، مگر ایک ملک کا نظام عملاً ایک دن کے اندر نہیں بدل جایا کرتا۔ آج اگر کوئی ملک بالکلیہ ہمارے اختیار میں ہو اور ہم اس میں اسلامی نظام قائم کرنے کی خالص نیت ہی سے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیں، تب بھی اس کے نظام تمدّن، نظامِ معاشی، نظام سیاست اور نظام عدالت و قانون کو بالفعل بدلتے بدلتے برسوں لگ جائیں گے اور کچھ مدت تک ہم کو اپنے انتظام میں بھی سابق قوانین برقرار رکھنے پڑیں گے۔ کیا تاریخ اس بات پر شاہد نہیں ہے کہ خود نبی ؐ کو بھی عرب کے نظام زندگی میں پورا اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے نو دس سال لگے تھے؟ اس دوران میں خاتم النبیین ؐ کی اپنی حکومت میں چند سال شراب نوشی ہوتی رہی، سودلیا اور دیا جاتا رہا، جاہلیت کا قانونِ میراث جاری رہا، پرانے قوانین نکاح و طلاق برقرار رہے، بیوعِ فاسدہ کی بہت سی صورتیں عمل میں آتی رہیں، اور اسلامی قوانین دیوانی و فوجداری بھی اول روز ہی بتمام و کمال نافذ نہیں ہوگئے۔ پس اگر حضرت یوسف ؑ کی حکومت میں ابتدائی آٹھ نو سال تک سابق مصری بادشاہت کے کچھ قوانین چلتے رہے ہوں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے اور اس سے یہ دلیل کیسے نکل آتی ہے کہ خدا کا پیغمبر مصر میں خدا کے دین کو نہیں بلکہ بادشاہ کے دین کو جاری کرنے پر مامور تھا۔ رہی یہ بات کہ جب ملک میں دین الملک جاری تھا ہی تو آخر حضرت یوسف ؑ کی اپنی ذات کے لیے اس پر عمل کرنا کیوں شایانِ شان نہ تھا، تو یہ سوال بھی نبی ؐ کے طریقہ پر غور کرنے سے بآسانی حل ہوجاتا ہے۔ نبی ؐ کی حکومت کے ابتدائی دور میں جب تک قوانین اسلامی جاری نہ ہوئے تھے، لوگ پُرانے طریقے کے مچابق شراب پیتے رہے، مگر کیا حضور ؐ نے بھی پی؟ لوگ سود لیتے دیتے تھے، مگر کیا آپ ؐ نے بھی سودی لین دین کیا؟ لوگ متعہ کرتے رہے اور جمع بین الاختین کرتے رہے، مگر کیا حضور ؐ نے بھی ایسا کیا؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی اسلام کا عملی مجبوریوں کی بنا پر احکام اسلامی کے اجراء میں تدریج سے کام لینا اور چیز ہے اور اس کا خود اس تدریج کے دور میں جاہلیت کے طریقوں پر عمل کرنا اور چیز۔ تدریج کی رخصتیں دوسروں کے لیے ہیں۔ داعی کا اپنا یہ کام نہیں ہے کہ خود ان طریقوں میں سے کسی پر عمل کرے جن کے مٹانے پر وہ مامور ہُوا ہے۔


پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے

— Fatah Muhammad Jalandhari

[https://quran.com/yusuf/76]


In his explanation (tafseer) of the ayat, Syed Abu Ali Maududi (— Tafheem e Qur'an - ) discusses the difference between personal law vs public law. While Joseph (Yusuf عليه السلام) was a prophet of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ , a monotheist, he was also in charge over the treasures of the earth of Egypt, in service of the polytheist Egyptian King, probably only second in command to the King himself. Joseph (Yusuf عليه السلام) was prevented from applying Egyptian Law to a matter between him and his monotheist brothers, and they were able to successfully uphold the Law of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ , the laws by which monotheists are supposed to live by. 

Syed Abu Ali Maududi emphasises that while it may take several years to implement the Deen and Shariah nationally, it may always be possible to find ways to circumvent worldly laws to be able to comply with the Laws (Deen and Shariah) revealed by Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ 

The brothers of Joseph (Yusuf عليه السلام) were foreigners. They were travellers, visiting Egypt for trade and charity, as there were grains stockpiled in Egypt, in anticipation of the famine raging across their region. Thus, due to their non-resident status, it was possible to judge them according to their laws.

There are always exceptions to the rule, if one is willing to find them. 

The driving force is who one wants to please: nafs (soul), or Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ 

Sometimes, they align, sometimes they don't. 

There are the judgements of this world, and there is a Judgement Day promised to all mankind by Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ . The Day we will be judged according to the Divine Law of The King of Mankind. 

So, we invoke help, against evil of ideas that lead to sinful desires, through the prayer in the concluding surah of The Quran:

Mankind (114:1-6)

114:1

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ‏ ١ مَلِكِ النَّاسِۙ‏ ٢ اِلٰهِ النَّاسِۙ‏ ٣ مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ  ۙ الۡخَـنَّاسِ ۙ‏ ٤ الَّذِىۡ يُوَسۡوِسُ فِىۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ‏ ٥ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاس‏ ٦


1.Say, ˹O Prophet,˺ “I seek refuge in the Lord of humankind, 2.the Master of humankind, 3.the God of humankind, 4.from the evil of the lurking whisperer— 5.who whispers into the hearts of humankind— 6.from among jinn and humankind.”

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran


1.Say, “I seek refuge with the Lord of mankind, 2.the King of mankind, 3.the God of mankind, 4.from the evil of the whisperer who withdraws (when Allah’s name is pronounced), 5.the one who whispers in the hearts of people, 6.whether from among the Jinn or Mankind.

— T. Usmani


کہیے کہ میں پناہ میں آتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی۔ 2.تمام انسانوں کے بادشاہ کی۔ 3.تمام انسانوں کے معبود کی۔ 4.اس بار بار وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ 5.جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ 6.خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


کہو، میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی 2.لوگوں کے بادشاہ کی 3.لوگوں کے معبود کی 4.اس کے شر سے جو وسوسہ ڈالے اور چھپ جائے 5.جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے 6.جن میں سے، اور انسان میں سے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/an-nas/1-6]


It is important to be sincere to Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ 's Law, submitting to it. That is the meaning of being a Muslim: the one who submits to Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ 's Law. So, we find quoted Joseph (Yusuf عليه السلام)'s prayer at the end of his story: 

Joseph (12:101) 


۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ ١٠١


“My Lord, You have given me power to rule and the knowledge of interpreting events. O Creator of the heavens and the Earth, You are my guardian in this world and the Hereafter. Make me die a Muslim and make me join the righteous.”

— T. Usmani



O my Lord! Thou hast given me (something) of sovereignty and hast taught me (something) of the interpretation of events - Creator of the heavens and the earth! Thou art my Protecting Guardian in the world and the Hereafter. Make me to die muslim (unto Thee), and join me to the righteous.

— M. Pickthall


اے میرے ربّ، تُو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تُو ہی دُنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔“1

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

[1]یہ چند فقرے جو اس موقع پر حضرت یوسف ؑ کی زبان سے نکلے ہیں، ہمارے سامنے ایک سچے مومن کی سیرت کا عجیب دلکش نقشہ پیش کرتے ہیں۔ صحرائی گلہ بانوں کے خاندان کا ایک فرد، جس کو خود اس کے بھائیوں نے حسد کے مارے ہلاک کردینا چاہا تھا، زندگی کے نشیب و فراز دیکھتا ہُوا بالآخر دنیوی عروج کے انتہائی مقام پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے قحط زدہ اہل خاندان اب اس کے دست نگر ہوکر اس کے حضور آئے ہیں اور وہ حاسد بھائی بھی، جو اس کو مار ڈالنا چاہتے تھے، اس کے تخت شاہی کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ یہ موقع دنیا کے عام دستور کے مطابق فخر جتانے، ڈینگیں مارنے، گلے اور شکوے کرنے، اور طعن و ملامت کے تیر برسانے کا تھا۔ مگر ایک سچا خدا پرست انسان اس موقع پر کچھ دوسرے ہی اخلاق ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے اس عروج پر فخر کرنے کے بجائے اس خدا کے احسان کا اعتراف کرتا ہے جس نے اسے یہ مرتبہ عطا کیا۔ وہ خاندان والوں کو اُس ظلم و ستم پر کوئی ملامت نہیں کرتا جو اوائل عمر میں انہوں نے اس پر کیے تھے۔ اس کے برعکس وہ اس بات پر شکر ادا کرتا ہے کہ خدانے اتنے دنوں کی جدائی کے بعد ان لوگوں کو مجھ سے ملایا۔ وہ حاسد بھائیوں کے خلاف شکایت کا ایک لفظ زبان سے نہیں نکالتا۔ حتٰی کہ یہ بھی نہیں کہتا کہ انہوں نے میرے ساتھ برائی کی تھی۔بلکہ ان کی صفائی خود ہی اس طرح پیش کرتا ہے کہ شیطان نے میرے اور ان کے درمیان برائی ڈال دی تھی۔ اور پھر اس برائی کے بھی بہت پہلو چھوڑ کر اس کا یہ اچھا پہلو پیش کرتا ہے کہ خدا جس مرتبے پر مجھے پہنچانا چاہتا تھا اس کے لیے یہ لطیف تدبیر اُس نے فرمائی۔ یعنی بھائیوں سے شیطان نے جو کچھ کرایا اسی میں حکمت الٰہی کے مچابق میرے لیے خیر تھی۔ چند الفاظ میں یہ سب کچھ کہہ جانے کے بعد وہ بے اختیار اپنے خدا کے آگے جھک جاتا ہے، اس کا شکر ادا کرتا ہے کہ تو نے مجھے بادشاہی دی اور وہ قابلیتیں بخشیں جن کی بدولت میں قید خانے میں سڑنے کے بجائے آج دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر فرماں روائی کررہا ہوں۔ اور آخر میں خدا سے کچھ مانگتا ہے تو یہ کہ دنیا میں جب تک زندہ رہوں تیری بندگی و غلامی پر ثابت قدم رہوں، اور جب اس دنیا سے رخصت ہوں تو مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملادیا جائے۔ کس قدر بلند اور کتنا پاکیزہ ہے یہ نمونہٴ سیرت !

حضرت یوسف ؑ کی اس قیمتی تقریر نے بھی بائیبل اور تلمود میں کوئی جگہ نہیں پائی ہے۔ حیرت ہے کہ یہ کتابیں قصوں کی غیر ضروری تفصیلات سے تو بھری پڑی ہیں، مگر جو چیزیں کوئی اخلاقی قدروقیمت رکھتی ہیں اور جن سے انبیاء کی اصلی تعلیم اور ان کے حقیقی مشن اور ان کی سیرتوں کے سبق آموز پہلووٴں پر روشنی پڑتی ہے، ان سے ان کتابوں کا دامن خالی ہے۔

یہاں یہ قصہ ختم ہورہا ہے اس لیے ناظرین کو پھر اس حقیقت پر متنبہ کردینا ضروری ہے کہ قصہٴ یوسف ؑ کے متعلق قرآن کی یہ روایت اپنی جگہ ایک مستقل روایت ہے، بائیبل یا تلمود کا چربہ نہیںہے۔ تینوں کتابوں کا متقابل مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قصے کے متعدد اہم اجزاء میں قرآن کی روایت ان دونوں سے مختلف ہے۔ بعض چیزیں قرآن ان سے زائد بیان کرتا ہے، بعض ان سے کم، اور بعض میں ان کی تردید کرتا ہے۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلّم نے جو قصہ سنایا وہ بنی اسرائیل سے سن لیا ہوگا۔


(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو

— Fatah Muhammad Jalandhari

[https://quran.com/yusuf/101]






List of learnings from Surah Yusuf  


 

Thursday, 30 July 2026

Stories that People Invent

 ...

Joseph (12:111)


لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًۭا يُفْتَرَىٰ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ١١١


There was certainly in their stories a lesson for those of understanding. Never was it [i.e., the Qur’ān] a narration invented, but a confirmation of what was before it and a detailed explanation of all things and guidance and mercy for a people who believe.

— Saheeh International


There is, in their stories, instruction for men endued with understanding. It is not a tale invented, but a confirmation of what went before it,- a detailed exposition of all things, and a guide and a mercy to any such as believe.

— A. Yusuf Ali


یقیناً ان (سابقہ اقوام) کے واقعات میں ہوش مند لوگوں کے لیے عبرت ہے یہ (قرآن) ایسی بات نہیں جسے گھڑ لیا گیا ہو بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اس کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور (اس میں) تفصیل ہے ہرچیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو (اس پر) ایمان لاتے ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


ان کے قصوں میں سمجھ دار لوگوں کے ليے بڑی عبرت ہے یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں ، بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے ليے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/111]


The Quran is a factual book which narrates the truth. It is not a tale invented. 

Surah Yusuf concludes on the note that it is not a tale invented (مَا كَانَ حَدِيثًۭا يُفْتَرَىٰ), but it is a confirmation of what happened. 

Surah Yusuf also presents a few examples of invented stories. Tales that people invent. 

The first such example is the tale invented about Joseph (Yusuf)'s disappearance: 

اِذۡ قَالُوۡا لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ اَحَبُّ اِلٰٓى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ  ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنِ ​ۖ ​ۚ‏ ٨ اۨقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا يَّخۡلُ لَـكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ وَ تَكُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ قَوۡمًا صٰلِحِيۡنَ‏ ٩ قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ وَاَلۡقُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُـبِّ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ السَّيَّارَةِ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ‏ ١٠ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا لَـكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَ‏ ١١ اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ‏  ١٢ قَالَ اِنِّىۡ لَيَحۡزُنُنِىۡ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡـتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَ‏ ١٣ قَالُوۡا لَٮِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ‏  ١٤ فَلَمَّا ذَهَبُوۡا بِهٖ وَاَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ يَّجۡعَلُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُبِّ​ۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ لَـتُنَـبِّئَـنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏  ١٥ وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؕ‏ ١٦ ​قَالُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ​ۚ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صٰدِقِيۡنَ‏ ١٧ وَجَآءُوۡ عَلٰى قَمِيـۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ​ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَـكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا​ؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ​ؕ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ‏  ١٨

8.They said: "Truly Joseph and his brother are loved more by our father than we: But we are a goodly body! really our father is obviously wandering (in his mind)! 9."Slay ye Joseph or cast him out to some (unknown) land, that so the favour of your father may be given to you alone: (there will be time enough) for you to be righteous after that!" 10.Said one of them: "Slay not Joseph, but if ye must do something, throw him down to the bottom of the well: he will be picked up by some caravan of travellers." 11.They said: "O our father! why dost thou not trust us with Joseph,- seeing we are indeed his sincere well-wishers? 12."Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and we shall take every care of him." 13.(Jacob) said: "Really it saddens me that ye should take him away: I fear lest the wolf should devour him while ye attend not to him." 14.They said: "If the wolf were to devour him while we are (so large) a party, then should we indeed (first) have perished ourselves!" 15.So they did take him away, and they all agreed to throw him down to the bottom of the well: and We put into his heart (this Message): 'Of a surety thou shalt (one day) tell them the truth of this their affair while they know (thee) not' 16.Then they came to their father in the early part of the night, weeping. 17.They said: "O our father! We went racing with one another, and left Joseph with our things; and the wolf devoured him.... But thou wilt never believe us even though we tell the truth." 18.They stained his shirt with false blood. He said: "Nay, but your minds have made up a tale (that may pass) with you, (for me) patience is most fitting: Against that which ye assert, it is Allah (alone) Whose help can be sought"..

— A. Yusuf Ali


8.جب اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالاں کہ ہم ایک پورا جتھا ہیں یقیناً ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے 9.یوسف کو قتل کردو یا اس کو کسی جگہ پھینک دو تاکہ تمھارے باپ کی توجہ صرف تمھاری طرف ہوجائے اور اس کے بعد تم بالکل ٹھیک ہوجانا 10.ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو تو اس کو کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا

10.ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو تو اس کو کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا 11.انھوں نے اپنے باپ سے کہا، اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالاں کہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں 12.کل اس کو ہمارے ساتھ بھیج دیجيے، کھائے اور کھیلے، اور ہم اس کے نگہبان ہیں 13.باپ نے کہا، میں اس سے غمگین ہوتا ہوں کہ تم اس کو لے جاؤ اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے جب کہ تم اس سے غافل ہو 14.انھوں نے کہا کہ اگر اس کو بھیڑ یا کھا گیا جب کہ ہم ایک پوری جماعت ہیں ، تو ہم بڑے خسارے والے ثابت ہوں گے 15.پھر جب وہ اس کو لے گئے اور یہ طے کرلیا کہ اس کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے یوسف کو وحی کی کہ تو ان کوان کا یہ کام جتائے گااور وہ تجھ کو نہ جانیں گے 16.اور وہ شام کو اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے 17.انھوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا پھر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے، چاہے ہم سچے ہوں 18.اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگاکر لے آئے باپ نے کہا نہیں ، بلکہ تمھارے نفس نے تمھارے ليے ایک بات بنادی ہے اب صبر ہی بہتر ہے اور جو بات تم ظاہر کر رہے ہو، اس پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/8-18]

There are a few more examples of invented stories in Surah Yusuf. 

In Ayat 40, a statement is being made about the myths of Ancient Egyptian religion: 


Joseph (12:40)


مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٤٠


Whatever ˹idols˺ you worship instead of Him are mere names which you and your forefathers have made up[1]—a practice Allah has never authorized. It is only Allah Who decides. He has commanded that you worship none but Him. That is the upright faith, but most people do not know.

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran

[1] Meaning, “You call them gods while in fact they are not gods.”


Whatever you worship, other than Him, are nothing but names you have coined, you and your fathers. Allah has sent down no authority for them. Sovereignty belongs to none but Allah. He has ordained that you shall not worship anyone but Him. This is the only right path. But most of the people do not know.”

— T. Usmani


You worship not besides Him except [mere] names you have named them,[1] you and your fathers, for which Allāh has sent down no evidence. Legislation is not but for Allāh. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.

— Saheeh International

[1]- The false objects of worship which you have called "gods."


Those whom ye worship beside Him are but names which ye have named, ye and your fathers. Allah hath revealed no sanction for them. The decision rests with Allah only, Who hath commanded you that ye worship none save Him. This is the right religion, but most men know not.

— M. Pickthall


"If not Him, ye worship nothing but names which ye have named,- ye and your fathers,- for which Allah hath sent down no authority: the command is for none but Allah: He hath commanded that ye worship none but Him: that is the right religion, but most men understand not...

— A. Yusuf Ali


اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو ، یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— Fe Zilal al-Qur'an


اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi


اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی[1] ، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست [2]ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.[3]

— Maulana Muhammad Junagarhi

[1]اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ان کا نام معبود تم نے خود ہی رکھ لیا ہے، دراں حالیکہ وہ معبود ہیں نہ ان کی بابت کوئی دلیل اللہ نے اتاری ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان معبودوں کے جو مختلف نام تم نے تجویز کر رکھے ہیں۔ مثلا خواجہ غریب نواز، گنج بخش کرنی والا، کرماں والا وغیرہ یہ سب تمہارے خود ساختہ ہیں۔ ان کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔

[2]یہی دین، جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں، جس میں صرف ایک اللہ کی عبادت ہے، درست اور رقیم ہے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے۔

[3]جس کی وجہ سے اکثر لوگ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں «وَمَاوَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ» (سورۂ یوسف:106) ”ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں“ اور فرمایا «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» (سورۂ یوسف:103) ”اے پیغمبر تیری خواہش کے باوجود اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں“۔


جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fatah Muhammad Jalandhari


نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے مگر نام ہیں جو رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند [1] حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اسی کو [2] یہی ہے راستہ سیدھا پر بہت لوگ نہیں جانتے [3]

— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

[1]یعنی قدیم سے انبیاء علیہم السلام کی زبانی یہ ہی حکم بھیجتا رہا کہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک مت کرو۔ وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ (زخرف۔۴۵)

[2]یعنی توحید خالص کے راستہ میں ایچ پیچ کچھ نہیں۔ سیدھی اور صاف سڑک ہے جس پر چل کر آدمی بے کھٹکے خدا تک پہنچتا ہے لیکن بہت لوگ حماقت یا تعصب سے ایسی سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھتے۔

[3]قیدیوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کی تبلیغ:یعنی یوں ہی بے سند اور بے ٹھکانے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں جن کے نیچے حقیقت ذرہ برابر نہیں۔ ان ہی نام کے خداؤں کی پوجا کر رہے ہو ۔ ایسے جہل پر انسان کو شرمانا چاہئے۔


تم اس کے سوا نہیں پوجتے ہو مگر کچھ ناموں کو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ ليے ہیں اللہ نے اس کی کوئی سند نہیں اتاری اقتدار صرف اللہ کے ليے ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/40]

..





List of learnings from Surah Yusuf  


...

Twice Outwitted

, yet holding on to faith.  

screenshot from Quran.com


Jacob (Yaqub عليه السلام) was a man of vision, a prophet of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ 

When he heard of the vision shown to his son Joseph (Yusuf عليه السلام), he advised him against sharing it with his brothers: 


Joseph (12:5)


قَالَ يَـٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ ٥


He said, “My son, do not relate your dream to your brothers, lest they should devise a plan against you. Surely, Satan is an open enemy for mankind.

— T. Usmani


He said: O my dear son! Tell not thy brethren of thy vision, lest they plot a plot against thee. Lo! Satan is for man an open foe.

— M. Pickthall


یعقوب نے فرمایا : اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے یقیناً شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اس کے باپ نے کہا کہ اے میرے بیٹے، تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ وہ تمھارے خلاف کوئی سازش کرنے لگیں بے شک شیطان آدمی کا کھلا ہوا دشمن ہے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/5]


As we read, in spite of his advise, Satan got the better of his elder sons, and so they plotted against him, and had the beloved son removed from his father's presence. Alas, all he could do was be patient: 

Joseph (12:17-18)


12:17

قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍۢ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـٰدِقِينَ ١٧


They said, “Father, we went racing with one another, and left Yūsuf with our belongings, and the wolf ate him up. You will never believe us, howsoever truthful we may be.”

— T. Usmani


Saying: O our father! We went racing one with another, and left Joseph by our things, and the wolf devoured him, and thou believest not our saying even when we speak the truth.

— M. Pickthall


انہوں نے کہا : ابا جان ! ہم جا کر دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور ہم نے چھوڑ دیا تھا یوسف کو اپنے سامان کے پاس تو اسے کھالیا ایک بھیڑیے نے۔ اور آپ ہماری بات مانیں گے تو نہیں خواہ ہم کتنے ہی سچے ہوں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


انھوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا پھر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے، چاہے ہم سچے ہوں

— Maulana Wahiduddin Khan


12:18

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍۢ كَذِبٍۢ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨


And they came with fake blood on his shirt. He said, “Rather, your inner desires have tempted you to do something. So, patience is best. It is Allah whose help is sought against what you describe.’’

— T. Usmani


And they came with false blood on his shirt. He said: Nay, but your minds have beguiled you into something. (My course is) comely patience. And Allah it is Whose help is to be sought in that (predicament) which ye describe.

— M. Pickthall


اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے حضرت یعقوب نے فرمایا : (واقعہ یوں نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا ہے اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی کی مدد طلب کی جاسکتی ہے اس پر جو تم بیان کر رہے ہو

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگاکر لے آئے باپ نے کہا نہیں ، بلکہ تمھارے نفس نے تمھارے ليے ایک بات بنادی ہے اب صبر ہی بہتر ہے اور جو بات تم ظاہر کر رہے ہو، اس پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/17-18]

Jacob (Yaqub عليه السلام) was patient over the loss of his beloved son, and the story concocted by his other sons. He sought Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ 's help.  

Several years later, the same sons sought permission to take their youngest brother to Egypt. 

Jacob (Yaqub عليه السلام) advised them: 

Joseph (12:66-68)


12:66

قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ ٦٦


He said, “I shall never send him with you until you give me a pledge in the name of Allah that you will definitely bring him back to me, unless you are overpowered (by circumstances).” So, when they gave him their pledge, he said, “Allah is watchful over what we say.”

— T. Usmani


He said: I will not send him with you till ye give me an undertaking in the name of Allah that ye will bring him back to me, unless ye are surrounded. And when they gave him their undertaking he said: Allah is the Warden over what we say.

— M. Pickthall


یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


یعقوب نے کہا، میں اس کو تمھارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھ سے خدا کے نام پر یہ عہد نہ کرو کہ تم اس کو ضرور میرے پاس لے آؤ گے، الا یہ کہ تم سب گھِر جاؤ پھر جب انھوں نے اس کو اپنا پکا قول دے دیا، اس نے کہا کہ جو ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے

— Maulana Wahiduddin Khan


12:67

وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍۢ وَٰحِدٍۢ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍۢ مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ٦٧


And he said, “O my sons, do not enter (the city) all of you from the same gate, rather, enter from different gates. And I cannot help you in any way against (the will of) Allah. Sovereignty belongs to none but Allah. In Him I place my trust, and all those who trust should trust in Him alone.”

— T. Usmani


And he said: O my sons! Go not in by one gate; go in by different gates. I can naught avail you as against Allah. Lo! the decision rests with Allah only. In Him do I put my trust, and in Him let all the trusting put their trust.

— M. Pickthall


اور آپ نے کہا : اے میرے بیٹو ! تم لوگ ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اور یعقوب نے کہا کہ اے میرے بیٹو، تم سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو اللہ کی کسی بات سے نہیں بچاسکتا حکم تو بس اللہ کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہيے

— Maulana Wahiduddin Khan


12:68

وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍۢ لِّمَا عَلَّمْنَـٰهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٦٨


And (recall) when they entered (the city) in the manner their father had advised them. He could not help them in any way against (the will of) Allah, but it was just an urge in the heart of Ya‘qūb which he satisfied; he was a man of knowledge, because We had taught him, but most of the people do not know.

— T. Usmani


And when they entered in the manner which their father had enjoined, it would have naught availed them as against Allah; it was but a need of Jacob's soul which he thus satisfied; and lo! he was a lord of knowledge because We had taught him; but most of mankind know not.

— M. Pickthall


تو جب وہ داخل ہوئے جہاں سے انہیں حکم دیا تھا ان کے والد نے وہ (یعقوب) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی سوائے اس کے کہ یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے اسے پورا کرلیا اور یقیناً آپ صاحب علم تھے اس علم کے اعتبار سے جو ہم نے آپ کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو ہدایت کی تھی، وہ ان کو نہیں بچا سکتا تھا اللہ کی کسی بات سے وہ بس یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے پورا کیا بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ نہیں جانتے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/66-68]


Jacob (Yaqub ...) tried to advise according to his knowledge and wisdom, yet the decision is always with Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ . So, the story unfolded exactly according to Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ 's decree. 

The beautiful thing about Jacob (Yaqub عليه السلام) is his unwavering faith and patience: 

Joseph (12:86-87)


12:86

قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٨٦


He said, “I do not complain of my anguish and sorrow to anyone but Allah, and I know from Allah what you do not know.

— T. Usmani


He said: I expose my distress and anguish only unto Allah, and I know from Allah that which ye know not.

— M. Pickthall


یعقوب نے فرمایا : میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اس نے کہا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

— Maulana Wahiduddin Khan


12:87

يَـٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٨٧


O my sons, go and search for Yūsuf and his brother, and do not lose hope in the mercy of Allah. In fact, only the infidels lose hope in Allah’s mercy.”

— T. Usmani


Go, O my sons, and ascertain concerning Joseph and his brother, and despair not of the Spirit of Allah. Lo! none despaireth of the Spirit of Allah save disbelieving folk.

— M. Pickthall


اے میرے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کو بھی اور اس کے بھائی کو بھی اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اے میرے بیٹو، جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو اللہ کی رحمت سے صرف منکر ہی ناامید ہوتے ہیں

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/86-87]



Twice he tried to protect his beloved youngest sons. 

Twice he was outwitted. 

Both times, he held onto faith, and patiently endured the circumstances and the separation. 

He did not lose hope in the Mercy of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ 






List of learnings from Surah Yusuf 


...


Tuesday, 28 July 2026

Intelligence & Secret Service

 ... 

The Cave (18:65)


فَوَجَدَا عَبْدًۭا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَـٰهُ رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَـٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًۭا ٦٥ 

There they found a servant of Ours, to whom We had granted mercy from Us and enlightened with knowledge of Our Own. 

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran 

Then they found one of Our servants whom We blessed with mercy from Us and whom We gave knowledge, a knowledge from Our own. 

— T. Usmani 

Then found they one of Our slaves, unto whom We had given mercy from Us, and had taught him knowledge from Our presence. 

— M. Pickthall 

So they found one of Our servants, on whom We had bestowed Mercy from Ourselves and whom We had taught knowledge from Our own Presence. 

— A. Yusuf Ali 

تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی اور جس کو اپنے پاس سے ایک علم سکھایا تھا 

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/al-kahf/65]


Surah al-Kahf contains many unusual stories with subterranean references. One such story is the quest of Moses (Musa عليه السلام) for knowledge from someone whom The Quran simply refers to as 'Our servant' upon whom 'We had bestowed Mercy', and whom 'We had taught knowledge from Our own Presence'. 

The first story in Surah al-Kahf is the young boys praying for something similar: 

The Cave (18:10)


إِذْ أَوَى ٱلْفِتْيَةُ إِلَى ٱلْكَهْفِ فَقَالُوا۟ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةًۭ وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًۭا ١٠

When the young men took refuge in the Cave and said, “Our Lord, bless us with mercy from Your own and provide us with guidance in our matters.” 

— T. Usmani

 جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی، پھر انھوں نے کہا کہ اے ہمارے رب، ہم کو اپنے پاس سے رحمت دے اورہمارے معاملے کو درست کردے 

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/al-kahf/10]

These young people were seeking mercy (رَحْمَةًۭ), and legally correct actions (رَشَدًۭا). They were being called to polytheism. They resisted, stood firm on their faith in One God alone (Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎), and then sought refuge in the pit cave (ٱلْكَهْفِ). 

Now, in the story of Moses (Musa عليه السلام), we read that he, along with the young person with him, is seeking such a person who has been blessed with mercy and knowledge. Eventually, he finds him. 

Where he finds him, the three missions he accompanies him in, and their explanation, are all narrated in ayaat 60-82

When Moses (Musa عليه السلام) finds this person, he says to him: 

The Cave (18:66)


قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًۭا ٦٦

Mūsā said to him, “May I have your company so that you teach me some of the rightful knowledge you have been given.” 

— T. Usmani

موسیٰ نے اس سے کہا ” کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے ؟

— Fe Zilal al-Qur'an

 موسیٰ نے اس سے کہا، کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں ، تاکہ آپ مجھے اس علم میں سے سکھادیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے 

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/al-kahf/66]


Moses (Musa عليه السلام) is seeking a certain type of knowledge, the knowledge of (رُشْدًۭا) from this person. The word is variously translated: by T.Usmani as 'the rightful'; in Fe Zilal al-Quran as 'اس دانش'; by Maulana Wahiduddin Khan as 'اس علم'; and as discussed in a previous post, I believe it means legally correct

Interestingly, the name of this person is not mentioned in the text. He is only referred to as 'Our servant'. 

Furthermore, Moses (Musa عليه السلام) finds him at the confluence of two water bodies, a place where a fish is able to pass through a rock. A place where the physics is different? A parallel realm? A secret place? 

Yet, this person is able to freely move about in our world, and interact with people. 

Yet, his behaviour, his actions, his interactions, all defy normal behaviour. 

He seems to have some knowledge of the future, some intel, based on which he takes actions to modify the direction of the present, towards a better future. [all three missions]

He protects the property of the poor by damaging it. It is an initiative he takes himself. [first mission] 

He also has the license to kill, and it is upon orders. So, he is sent as an assassin, to save a believing couple from a terrible offspring. [second mission] 

The wealth of the orphans, the descendants of a reformer, is being protected as per the order of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى . Apparently, the service is being done in the town whose people even refuse to feed the hungry, but in reality, the service is to protect the wealth of the orphans till they are strong enough to take out their treasure. [third mission] 

All this while, the name of this secret operative is not revealed. 

He is secretly serving, based on the intelligence, and the commands, being given to him. 

...





...

Sunday, 19 July 2026

Arabic Legislation

 the revelation in arabic 

The Thunder (13:36-37)

13:36

وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥ ۚ قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ ٣٦


˹The believers among˺ those who were given the Scripture rejoice at what has been revealed to you ˹O Prophet˺, while some ˹disbelieving˺ factions deny a portion of it. Say, “I have only been commanded to worship Allah, associating none with Him ˹in worship˺. To Him I invite ˹all˺, and to Him is my return.”

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran

And [the believers among] those to whom We have given the [previous] Scripture rejoice at what has been revealed to you, [O Muḥammad], but among the [opposing] factions are those who deny part of it [i.e., the Qur’ān]. Say, "I have only been commanded to worship Allāh and not associate [anything] with Him. To Him I invite, and to Him is my return."

— Saheeh International

Those unto whom We gave the Scripture rejoice in that which is revealed unto thee. And of the clans there are who deny some of it. Say: I am commanded only that I serve Allah and ascribe unto Him no partner. Unto Him I cry, and unto Him is my return.

— M. Pickthall

Those to whom We have given the Book rejoice at what hath been revealed unto thee: but there are among the clans those who reject a part thereof. Say: "I am commanded to worship Allah, and not to join partners with Him. Unto Him do I call, and unto Him is my return."

— A. Yusuf Ali

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ خوش ہور ہے ہیں اس (قرآن) سے جو (اے نبی !) آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور بعض گروہوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں آپ کہیے کہ مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ شرک نہ کروں اسی کی طرف میں بلا رہا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی، وہ اس چیز پر خوش ہیں جو تم پر اتاری گئی ہے اور ان گروہوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کے بعض حصہ کا انکار کرتے ہیں  کہو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤں  میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے

— Maulana Wahiduddin Khan


13:37

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَـٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّۭا ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا وَاقٍۢ ٣٧


And so We have revealed it as an authority in Arabic. And if you were to follow their desires after ˹all˺ the knowledge that has come to you, there would be none to protect or shield you from Allah.

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran

And thus We have revealed it as an Arabic legislation.[1] And if you should follow their inclinations after what has come to you of knowledge, you would not have against Allāh any ally or any protector.

— Saheeh International
[1]- i.e., revealed in the Arabic language.

Thus have We revealed it, a decisive utterance in Arabic; and if thou shouldst follow their desires after that which hath come unto thee of knowledge, then truly wouldst thou have from Allah no protecting friend nor defender.

— M. Pickthall

Thus have We revealed it to be a judgment of authority in Arabic. Wert thou to follow their (vain) desires after the knowledge which hath reached thee, then wouldst thou find neither protector nor defender against Allah.

— A. Yusuf Ali

اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا ہے عربی میں قول فیصل بنا کر اور (اے نبی !) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا ہے تو نہیں ہوگا آپ کے لیے بھی اللہ کی طرف سے نہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی بچانے والا

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

اور اسی طرح ہم نے اس کو ایک حکم کی حیثیت سے عربی میں اتارا ہے اور اگر تم ان کی خواہشوں کی پیروی کرو بعد اس کے کہ تمھارے پاس علم آچکا ہے تو خدا کے مقابلہ میں تمھارا نہ کوئی مدد گار ہو گا اور نہ کوئی بچانے والا

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/ar-rad/36-37]


The Quran is the revelation in Arabic (وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَـٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّۭا).

It contains Divine legislation (وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَـٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّۭا). 

Those who have been given the al-Kitab, rejoice that it has been revealed (وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ). 

It contains the Laws by which to judge by. 

It can be used by the individual to do their own tazkiya (evaluation for improvement). 

It can be used by society to live by. 

It must be used the Muslim Government to judge and rule by. 

Allah is The King, and The King decrees Laws by which the kingdom is governed. 

Allah has decreed the Deen, and it needs to be adopted willingly by the Muslim nation. 

By definition, Muslim means 'who submits'. 

Allah is the Lord-Sustainer of each nafs, and the nafs of every individual is in pledge. 

Regarding the nation (بِقَوۡمٍ), a divine principle is mentioned earlier in the surah (Q13:11): 

Allah is having each and every nafs guarded and protected. 

Allah does not change (for the worse) the condition of a nation (إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ) until they change (for the worse) the condition of their nafs (حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ). And when Allah decides some harm for a people, there is no repelling it. And they have nobody besides Him as a patron.  

The Thunder (13:11) 


لَهُۥ مُعَقِّبَـٰتٌۭ مِّنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ يَحْفَظُونَهُۥ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ سُوٓءًۭا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ ١١

[https://quran.com/ar-rad/11]

This detail (change (for the worse)) is missed in translation, resulting in this ayat being misquoted.   

Allah can choose to allow us to be unguarded and unprotected. 

Allah wants us to choose to be guarded and protected. 

Allah wants us to willingly submit to His Laws. 

Allah wants good for us. 

Allah wants to bless us with His Mercy. 

Allah wants us to dwell in peace in The Gardens of Eternity. 

We need to choose Allah as our King, as our Lord, as our Law-Giver, as our only Deity (ilah). 

We need to submit to Allah. 

We need to worship Allah. 

.

.

Also Read 

Wronging the Nafs 

The Return to Glory 

Law-Abiding Citizens 

 

...


 

Saturday, 18 July 2026

Allah's Promise is True

 an illustration in Surah Yusuf 


Joseph (12:4)


إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَـٰجِدِينَ ٤


When Joseph said unto his father: O my father! Lo! I saw in a dream eleven planets and the sun and the moon, I saw them prostrating themselves unto me.

— M. Pickthall

جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان، میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں  میں نے ان کو دیکھا کہ وہ مجھ کو سجدہ کر رہے ہیں

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/4]

...

Joseph (12:100)


وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَـٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ١٠٠


And he placed his parents on the dais and they fell down before him prostrate, and he said: O my father! This is the interpretation of my dream of old. My Lord hath made it true, and He hath shown me kindness, since He took me out of the prison and hath brought you from the desert after Satan had made strife between me and my brethren. Lo! my Lord is tender unto whom He will. He is the Knower, the Wise.

— M. Pickthall


اور اس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب اس کے ليے سجدے میں جھک گئے اور یوسف نے کہا اے باپ، یہ ہے میرے خواب کی تعبیر جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رب نے اس کو سچا کردیا اور اس نے میرے ساتھ احسان کیا کہ اس نے مجھے قید سے نکالا اور تم سب کو دیہات سے یہاں لایا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا بے شک میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کرلیتا ہے، وہ جاننے والا، حکمت والا ہے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/100]


The child Joseph (Yusuf عليه السلام) saw a dream, and related it to his father, Jacob (Yaqub عليه السلام), a prophet of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى 

He understood that it was a true dream. 

Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى 's Promises are Always True. 

After many strange events, and many setbacks, twists and turns in the story which would make one wonder if this prophesy was ever going to come true, the sequence of events led up to the realisation of the very thing that was shown to Joseph (Yusuf عليه السلام).

The next ayat in Surah Yusuf records the invocation (dua) of Joseph (Yusuf عليه السلام):

So, in Surah Fatir, we read:


يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ ٥


O mankind! Lo! the promise of Allah is true. So let not the life of the world beguile you, and let not the (avowed) beguiler beguile you with regard to Allah.

— M. Pickthall


اے لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے تو دیکھو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ ہی تمہیں دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے باز۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

[https://quran.com/fatir/5]



Related Readings 

Surah Yusuf (links page) 

The Covenant & Its Ratification 

Deen-e-Qayyimah (Q12:40) 



...

Wednesday, 15 July 2026

The Constitution & its Amendments

 ...


The Islamic Republic of Pakistan gained independence from the British in 1947. 

The Constitution of Islamic Republic of Pakistan is manmade. As long as humans keep trying to legislate, instead of adopting the Deen of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ , and the Shariah Laws, all efforts to legislate and improve the constitution are bound to fall short. Simply because human-devised laws cannot be as encompassing as Divinely-decreed Laws.  

Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى‎ has revealed His Deen and Shariah to judge by: 






Excerpt from: Allah's Laws (ٱلدِّينَ) vs The British Legal System: a question for PTI

The Legal System & The Legislators in Pakistan

Pakistan was sought for with the slogan: 

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ‎ 

What is the meaning of Pakistan? 

There is no god but Allah.   

Pakistan's Constitution states that: 

https://pakistani.org/pakistan/constitution/part9.html 

Part IX: Islamic Provisions

227 Provisions relating to the Holy Qur'an and Sunnah.

(1) All existing laws shall be brought in conformity with the Injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah, in this Part referred to as the Injunctions of Islam, and no law shall be enacted which is repugnant to such Injunctions. 

...   

While the Constitution of Pakistan guarantees that all laws must be brought in conformity with those revealed by Allah, yet throughout the country's existence as an independent state, Pakistan's Senate and Parliament have repeatedly failed, and floundered, in upholding the DEEN. The political parties, elected by the masses, have generally shown little to no sincerity to the DEEN. The politicians in particular, and the masses in general, have not been true to the slogan. 

The job of the elected legislators, Member of National Assembly (MNA) and Member of Provincial Assembly (MPA), is to legislate laws. Whether in opposition or in office, they are required to demonstrate sincerity to the Constitution. In the context of Pakistan, this means demonstrating sincerity to the Laws decreed by Allah, by legislating it into effect, as the Law of the Land. 

All political parties, whether religious or secular, have demonstrated no earnest effort to legislate according to Allah's Deen. The judicial system continues to be governed by the pre-independence legal system installed by the British. The legal system is derived from the English common law, which is based on the subject matter heard in previous cases, and thus, the law is created by the judges. 





...



Last updated on: July 16, 2026