Suicide, why not?
...
The Bee (16:1)
أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ١
The command of Allah is at hand, so do not hasten it. Glorified and Exalted is He above what they associate ˹with Him in worship˺!
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
Allah’s command has (almost) come. So, do not demand that it should come sooner. Pure is He, and much higher than their ascribing partners to Him.
— T. Usmani
The command of Allāh is coming,[1] so be not impatient for it. Exalted is He and high above what they associate with Him.
— Saheeh International
[1]- Literally, 'has come,' indicating the certainty and nearness of the Last Hour.
The commandment of Allah will come to pass, so seek not ye to hasten it. Glorified and Exalted be He above all that they associate (with Him).
— M. Pickthall
(Inevitable) cometh (to pass) the Command of Allah: seek ye not then to hasten it: Glory to Him, and far is He above having the partners they ascribe unto Him!
— A. Yusuf Ali
“ آگیا اللہ کا فیصلہ ، اب اس کے لئے جلدی نہ مچاؤ۔ پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
— Fe Zilal al-Qur'an
آگیا اللہ کا فیصلہ،1 اب اس کے لیے جلدی نہ مچاوٴ، پاک ہے وہ اور بالا و بر تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔2
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]پہلے فقرے اور دوسرے فقرے کا باہمی ربط سمجھنے کے لیے پس منظر کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ کفار جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بار بار چیلنج کر رہے تھے کہ اب کیوں نہیں آجاتا خدا کو وہ فیصلہ جس کے تم ہمیں ڈراوے دیا کرتے ہو، اس کے پیچھے دراصل ان کا یہ خیال کار فرما تھا کہ اُن کا مشرکانہ مذہب ہی بر حق ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) خواہ مخواہ اللہ کا نام لے لے کر ایک غلط مذہب پیش کر رہے ہیں جسے اللہ کی طرف سے کوئی منظوری حاصل نہیں ہے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ سے پھرے ہوئے ہوتے اور محمدؐ اس کے بھیجے ہوئے نبی ہوتے اور پھر بھی جو کچھ ہم ان کے ساتھ کر رہے ہیں اُس پر ہماری شامت نہ آجاتی۔ اس لیے خدائی فیصلے کا اعلان کرتے ہی فورًا یہ ارشاد ہوا ہے اس کے نفاذ میں تاخیر کی وجہ ہر گز وہ نہیں ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو۔ اللہ اس سے بلند تر اور پاکیزہ تر ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو۔
[2]یعنی بس وہ آیا ہی چاہتا ہے ۔ اُس کے ظہور و نفاد کا وقت قریب آ لگا ہے ۔۔۔۔۔ اس بات کو صیغہْ ماضی میں یا تو اس کے انتہائی یقینی اور انتہائی قریب ہونے کا تصور دلانے کے لیے فرمایا گیا ،یا پھر اس لیے کہ کفار قریش کی سرکشی و بدعملی کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اور آخری فیصلہ کُن قدم اُٹھائے جانے کا وقت آگیا تھا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ”فیصلہ“ کیا تھا اور کس شکل میں آیا؟ ہم یہ سمجھتے ہیں (اللہ اعلم بالصواب ) کہ اس فیصٖے سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت ہے جس کاحکم تھوڑی مدت بعد ہی دیا گیا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی جن لوگوں کے درمیان مبعوث ہوتا ہے اُن کے حجُود و انکار کی خری سرحد پر پہنچ کر اُسے ہجرت کا حکم دیا جاتا ہے اور یہ حکم اُن کی قسمت کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد یا تواُن پر تباہ کُن عذاب آجاتا ہے ، یا پھر نبی اور اس کے متبعین کے ہاتھوں ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جاتی ہے ۔ یہی بات تاریخ سے بھی معلوم ہوتی ہے ۔ ہجرت جب واقع ہوئی تو کفارِ مکہ سمجھے کہ فیصلہ ان کے حق میں ہے۔ مگر آٹھ دس سال کے اندر ہی دنیا نے دیکھ لیا کہ نہ صرف مکّے سے بلکہ پوری سرزمین عرب ہی سے کفر و شرک کی جڑیں اکھاڑ پھینک دی گئیں۔
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے
— Fatah Muhammad Jalandhari
اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا، اب اس کی جلدی نہ مچاؤ[1] ۔ تمام پاکی اس کے لیے ہے وه برتر ہے ان سب سے جنہیں یہ اللہ کے نزدیک شریک بتلاتے ہیں.
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]اس سے مراد قیامت ہے، یعنی وہ قیامت قریب آ گئی ہے جسے تم دور سمجھتے تھے، پس جلدی نہ مچاؤ، یا وہ عذاب مراد ہے جسے مشرکین طلب کرتے تھے۔ اسے مستقبل کے بجائے ماضی کے صیغے سے بیان کیا، کیونکہ کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔
اللہ کا حکم آن پہنچا ہے پس تم جلدی مت مچاؤ وہ پاک اور بلند وبالا ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
آ پہنچا حکم اللہ کا سو اس کی جلدی مت کرو [1] وہ پاک ہے اور برتر ہے انکے شریک بتلانے سے [2]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]یعنی جب حق کا غالب ہونا اور کفر و شرک پر سزا ملنا یقینی ہے تو توحید کی راہ اختیار کرو اور مشرکانہ طور و طریق سے علیحدہ ہو جاؤ ۔ جنہیں تم خدائی کا شریک ٹھہراتے ہو ان میں سے کوئی خدا کے حکم کو ٹال نہیں سکتا نہ عذاب الہٰی کو روک سکتا ہے۔
[2]اللہ کا حکم آ چکا ہے:یعنی خدا کا یہ حکم کہ 'پیغمبر ﷺ کی جماعت غالب و منصور اور حق کے مخالف مغلوب و ذلیل ہوں گے ۔ جنہیں دنیا میں مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں اور آخرت میں براہ راست احکم الحاکمین کے دربار سے شرک و کفر کی سزا ملے گی'۔ اس حکم کے وقوع کا وقت قریب آ پہنچا ۔ اور قیامت کی گھڑی بھی دور نہیں ہے ۔ جس چیز کا آنا یقینی ہو اسے آئی ہوئی سمجھنا چاہئے۔ پھر جلدی مچانے کی کیا ضرورت ہے کفار ازراہ تکذیب و اسہتزاء کہا کرتے تھے کہ جس عذاب یا قیامت کے آنے کا تم وعدہ کرتے ہو۔ وہ جلد کیوں نہیں آ جاتا ۔ انہیں متنبہ فرمایا کہ تمہارے ایسا کہنے سے وہ ٹلنے والا نہیں۔ بلکہ حتمی اور یقینی طور پر جلد آیا چاہتا ہے جس قدر دیر لگ رہی ہے وہ بھی ایک طرح سے تمہارے حق میں مفید ہے ۔ ممکن ہے بعض کو اصلاح و توبہ کی توفیق مل جائے ۔ وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ ؕ وَ لَوۡ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَہُمُ الۡعَذَابُ (عنکبوت۔۵۳) یَسۡتَعۡجِلُ بِہَا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِہَا ۚ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡہَا ۙ وَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہَا الۡحَقُّ (شوریٰ ۔۱۸)۔
آگیا اللہ کا فیصلہ، پس اس کی جلدی نہ کرو وہ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جس کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں
— Maulana Wahiduddin Khan
Surah alNahl (The Honey Bee) has 128 ayaat. The surah begins with the above statement (أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ١). To recount very briefly, it lists the countless favours of Allah عزوجل, his blessings to compensate for what we already lost (think: Fall of Adam); and the 'shifa' in honey for all humans, regardless of their faith. It also lists the only four items forbidden to humans to eat, and warns against inventing haram/halal edicts; it presents the example of a settlement which was safe, at ease, and provided with plenty of provisions, yet it was ungrateful for the blessings of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى , so it was clothed in hunger and fear due to what they had been constructing; towards the end of the surah, it applauds the monotheism and gratitude of Abraham (Ibrahim عليه السلام) for the blessings of Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى , and then the two concluding ayaat state:
The Bee (16:127-128)
وَٱصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِى ضَيْقٍۢ مِّمَّا يَمْكُرُونَ ١٢٧
Be patient ˹O Prophet˺, for your patience is only with Allah’s help. Do not grieve over those ˹who disbelieve˺, nor be distressed by their schemes.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
اور (اے نبی !) آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے اور آپ ان پر غم نہ کریں اور نہ آپ تنگی میں پڑیں اس بارے میں جو سازشیں یہ لوگ کر رہے تھے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ ١٢٨
Surely Allah is with those who shun evil and who do good ˹deeds˺.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
یقیناً اللہ اہل تقویٰ اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
[https://quran.com/16/127-128]
...
Surah anNahl presents examples of processes, and the benefits in the items derived from those processes, such as the collection of nectar for honey; the processes of converting the skin and hair of cattle to make items for comfort; the making of armour for protection, and so on.
Q16:92 also presents a strange example of a woman who spins her yarn, but breaks it after it has become strong. It warns against such foolishness.
Human babies also undergo through a process till they are ready to be born.
Human babies are born without knowing anything (think: Knowledge of Good and Evil).
We must go through the process called life, living every moment, till Allah's command comes for us.
Some have it tough, some have it easy.
Different individuals and groups are tried with health, wealth, sickness, poverty, and so on.
No one should envy anyone or give up hope in Allah's Mercy.
As Abraham (Ibrahim عليه السلام) is quoted in the previous surah:
The Rocky Tract (15:56)
قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ ٥٦
He exclaimed, “Who would despair of the mercy of their Lord except the misguided?”
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
He said, “Who can lose hope in the mercy of his Lord except those who have lost the straight path?”
— T. Usmani
He said, "And who despairs of the mercy of his Lord except for those astray?"
— Saheeh International
He said: And who despaireth of the mercy of his Lord save those who are astray?
— M. Pickthall
He said: "And who despairs of the mercy of his Lord, but such as go astray?"
— A. Yusuf Ali
ابراہیم نے کہا ” اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں “۔
— Fe Zilal al-Qur'an
ابراہیمؑ نے کہا "اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں"
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں.[1]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]یعنی اولاد کے ہونے پر میں تعجب اور حیرت کا اظہار کر رہا ہوں تو صرف اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کر رہا ہوں یہ بات نہیں ہے کہ میں اپنے رب کی رحمت سے نا امید ہوں۔ رب کی رحمت سے نا امید تو گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔
(ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے
— Fatah Muhammad Jalandhari
آپ نے کہا کہ کون ہوگا جو اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہو سوائے گمراہوں کے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
بولا اور کون آس توڑے اپنے رب کی رحمت سے مگر (وہی) جو گمراہ ہیں [1]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]اللہ سے نا امیدی گمراہی ہے:یعنی رحمت الہٰیہ سے نا امید تو عام مسلمان بھی نہیں ہو سکتے ۔ چہ جائیکہ انبیاء علیہم السلام کو معاذ اللہ یہ نوبت آئے ۔ محض اسباب عادیہ اور اپنی حالت موجودہ کے اعتبار سے ایک چیز عجیب معلوم ہوئی ، اس پر میں نے اظہار تعجب کیا ہے کہ خدا کی قدرت اب بڑھاپے میں مجھے اولاد ملے گی ۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتےہیں'۔ عذاب سے نڈر ہونا اور فضل سے ناامید ہونا دونوں کفر کی باتیں ہیں۔ یعنی آگے کی خبر اللہ کو ہے ایک بات پر دعویٰ کرنا یقین کر کے یوں نہیں ہو سکتا یہ ہی کفر کی بات ہے باقی محض دل کے خیال و تصور پر پکڑ نہیں جب منہ سے دعویٰ کرے تب گناہ ہوتا ہے'۔
ابراہیم نے کہا کہ اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون نا امید ہوسکتا ہے
— Maulana Wahiduddin Khan
Life is a blessing, an opportunity to regain entry into the Gardens, to dwell therein forever.
The purpose of the life of this world is a better hereafter.
To that end, one must go through all the trials that Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى sets for us in this life.
Life and Death are given by Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى , and each has its purpose and time.
Nobody has a right to take his/her life, or assist anyone to end their life. It is a crime. However, cases of suicide and euthanasia are increasingly being reported. In some countries, it has even been legislated. The world's courts and rulings do not matter. What matters is what Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى has decreed.
Surah alNahl also states:
The Bee (16:26-33)
قَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنْيَـٰنَهُم مِّنَ ٱلْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ ٱلسَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ٢٦
Indeed, those before them had plotted, but Allah struck at the ˹very˺ foundation of their structure, so the roof collapsed on top of them, and the torment came upon them from where they did not expect.[1]
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
[1] This verse refers to a tyrant king who ordered the building of a tower so he can reach the heavens and fight Allah and the angels. Eventually the tower collapsed, leaving the tyrant crushed.
(اسی طرح کی) چالیں چلی تھیں انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے تو اللہ حملہ آور ہوا ان کے قلعوں پر بنیادوں سے پھر گرپڑیں ان پر چھتیں ان کے اوپر سے اور ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے انہیں گمان تک نہ تھا
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
ثُمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تُشَـٰٓقُّونَ فِيهِمْ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ إِنَّ ٱلْخِزْىَ ٱلْيَوْمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ ٢٧
Then on the Day of Judgment He will humiliate them and say, “Where are My ˹so-called˺ associate-gods for whose sake you used to oppose ˹the believers˺?” Those gifted with knowledge will say, “Surely disgrace and misery today are upon the disbelievers.”
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
پھر قیامت کے دن اللہ انہیں رسوا کرے گا اور کہے گا : کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کی حمیت میں تم جھگڑتے تھے کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے کہ یقیناً آج کے دن رسوائی اور بد بختی کافروں ہی کے لیے ہے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا۟ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوٓءٍۭ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٢٨
Those whose souls the angels seize while they wrong themselves will then offer ˹full˺ submission ˹and say falsely,˺ “We did not do any evil.” ˹The angels will say,˺ “No! Surely Allah fully knows what you used to do.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
جن (کی روحوں) کو قبض کرتے ہیں فرشتے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے تو (اس وقت) وہ اطاعت پیش کریں گے کہ ہم تو کوئی برے کام نہیں کر رہے تھے (تو فرشتے کہیں گے) کیوں نہیں اللہ خوب جانتا ہے اسے جو کچھ تم کر رہے تھے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
فَٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٰبَ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَبِّرِينَ ٢٩
So enter the gates of Hell, to stay there forever. Indeed, what an evil home for the arrogant!”
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
اب تم داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں اسی میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے پس کیا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبرین کا
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
۞ وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا۟ خَيْرًۭا ۗ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةٌۭ ۚ وَلَدَارُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌۭ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ ٱلْمُتَّقِينَ ٣٠
And ˹when˺ it is said to those mindful ˹of Allah˺, “What has your Lord revealed?” They say, “All the best!” For those who do good in this world, there is goodness. But far better is the ˹eternal˺ Home of the Hereafter. How excellent indeed is the home of the righteous:
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
اور (جب) پوچھا جاتا ہے اہل تقویٰ سے کہ یہ کیا نازل کیا ہے تمہارے رب نے وہ کہتے ہیں بھلائی جن لوگوں نے نیکی کی روش اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو کہیں بہتر ہے۔ اور کیا ہی اچھا ہے وہ گھر متقیوں کا
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
جَنَّـٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِى ٱللَّهُ ٱلْمُتَّقِينَ ٣١
the Gardens of Eternity which they will enter, under which rivers flow. In it they will have whatever they desire. This is how Allah rewards the righteous—
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
باغات ہمیشہ رہنے والے جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ان کے لیے وہاں ہر وہ شے ہوگی جو وہ چاہیں گے اسی طرح اللہ بدلہ دے گا اپنے متقی بندوں کو
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَـٰمٌ عَلَيْكُمُ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٣٢
those whose souls the angels take while they are virtuous, saying ˹to them˺, “Peace be upon you! Enter Paradise for what you used to do.”
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
ان (کی روحوں) کو فرشتے قبض کرتے ہیں درآنحالیکہ وہ پاک ہوتے ہیں کہتے ہیں سلام ہو آپ پر داخل ہوجائیے جنت میں اپنے اعمال کے بدلے میں
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ٣٣
Are they only awaiting the coming of the angels or the command of your Lord ˹O Prophet˺? So were those before them. And Allah never wronged them, but it was they who wronged themselves.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
اب یہ لوگ کس شے کے منتظر ہیں سوائے اس کے کہ آ دھمکیں ان پر فرشتے یا آجائے فیصلہ آپ کے رب کا یہی روش اختیار کی تھی انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے۔ اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
Everything has been explained in detail:
The Bee (16:43-44)
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۚ فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ٤٣
We did not send ˹messengers˺ before you ˹O Prophet˺ except mere men inspired by Us. If you ˹polytheists˺ do not know ˹this already˺, then ask those who have knowledge ˹of the Scriptures˺.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
آپ سے پہلے بھی ہم مَردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو.[1]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]أَهْلُ الذِّكْرِ سے مراد اہل کتاب ہیں جو پچھلے انبیاء اور ان کی تاریخ سے واقف تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، وہ انسان ہی تھے اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اگر انسان ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ تم ان کی بشریت کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کر دو۔ اگر تمہیں شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء بشر تھے یا ملائکہ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو پھر بیشک انکار کر دینا، اگر وہ بھی انسان ہی تھے تو پھر محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت کا محض بشریت کی وجہ سے انکار کیوں؟
بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ٤٤
˹We sent them˺ with clear proofs and divine Books. And We have sent down to you ˹O Prophet˺ the Reminder, so that you may explain to people what has been revealed for them, and perhaps they will reflect.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ، یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وه غور وفکر کریں.
— Maulana Muhammad Junagarhi
...
According to the Hadith of Prophet Muhammad ﷺ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ، وَالَّذِي يَطْعُنُهَا يَطْعُنُهَا فِي النَّارِ ".
Narrated Abu Huraira-: The Prophet (ﷺ) said, "He who commits suicide by throttling shall keep on throttling himself in the Hell Fire (forever) and he who commits suicide by stabbing himself shall keep on stabbing himself in the Hell-Fire."
Sahih al-Bukhari 1365
https://sunnah.com/bukhari:1365
May Allah bless us with a good life, a good death, and a blessed resurrection, and a happily ever after.
..