... سُلَيْمَان عليه السلام
DRAFT
Solomon (Sulaiman عليه السلام) is mentioned seventeen times across The Quran.
(mentions 1 & 2) The first mention is in the context of the Magic, and extra-marital affairs, being taught and done in his kingdom. The Quran clearly states that Solomon (Sulaiman عليه السلام) was not doing kufr, he did not practice magic, rather it was the devils in his kingdom:
The Cow (2:102)
وَٱتَّبَعُوا۟ مَا تَتْلُوا۟ ٱلشَّيَـٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَـٰنَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَـٰنُ وَلَـٰكِنَّ ٱلشَّيَـٰطِينَ كَفَرُوا۟ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحْرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَـٰرُوتَ وَمَـٰرُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌۭ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا۟ لَمَنِ ٱشْتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِنْ خَلَـٰقٍۢ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ١٠٢
They ˹instead˺ followed the magic promoted by the devils during the reign of Solomon. Never did Solomon disbelieve, rather the devils disbelieved. They taught magic to the people, along with what had been revealed to the two angels, Hârût and Mârût, in Babylon.[1] The two angels never taught anyone without saying, “We are only a test ˹for you˺, so do not abandon ˹your˺ faith.” Yet people learned ˹magic˺ that caused a rift ˹even˺ between husband and wife; although their magic could not harm anyone except by Allah’s Will. They learned what harmed them and did not benefit them—although they already knew that whoever buys into magic would have no share in the Hereafter. Miserable indeed was the price for which they sold their souls, if only they knew!
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
[1] The two angels, Hârût and Mârût, were sent to enlighten the people in Babylon so they would not confuse magic tricks with miracles. Still some people abused this knowledge, causing mischief in the land. These practices persisted until the time of Solomon, who himself was falsely accused of utilizing magic to run his kingdom, subdue the jinn, and control the wind.
They followed what the devils used to recite in the reign of Sulaimān (Solomon); and it was not Sulaimān who became an infidel, but the devils did become infidels, teaching people magic, and what had been sent down to the two angels, Hārūt and Mārūt, in Babylon. And these two did not teach anyone without first having said (to him), “We are but a trial, so do not go infidel.” Then, they used to learn from them that with which they could cause separation between a man and his wife. But they were not to bring harm through it to anyone without the will of Allah.They used to learn what harmed them and did no good to them; and they certainly knew that he who buys it has no share in the Hereafter. And, indeed, vile is the thing for which they sold themselves away. If only they knew!
— T. Usmani
And they followed [instead] what the devils had recited during the reign of Solomon. It was not Solomon who disbelieved, but the devils disbelieved, teaching people magic and that which was revealed to the two angels at Babylon, Hārūt and Mārūt. But they [i.e., the two angels] do not teach anyone unless they say, "We are a trial, so do not disbelieve [by practicing magic]."[1] And [yet] they learn from them that by which they cause separation between a man and his wife. But they do not harm anyone through it except by permission of Allāh. And they [i.e., people] learn what harms them and does not benefit them. But they [i.e., the Children of Israel] certainly knew that whoever purchased it [i.e., magic] would not have in the Hereafter any share. And wretched is that for which they sold themselves, if they only knew.
— Saheeh International
[1]- They warn people against the misuse of what they have learned.
And follow that which the devils falsely related against the kingdom of Solomon. Solomon disbelieved not; but the devils disbelieved, teaching mankind magic and that which was revealed to the two angels in Babel, Harut and Marut. Nor did they (the two angels) teach it to anyone till they had said: We are only a temptation, therefore disbelieve not (in the guidance of Allah). And from these two (angles) people learn that by which they cause division between man and wife; but they injure thereby no-one save by Allah's leave. And they learn that which harmeth them and profiteth them not. And surely they do know that he who trafficketh therein will have no (happy) portion in the Hereafter; and surely evil is the price for which they sell their souls, if they but knew.
— M. Pickthall
They followed what the evil ones gave out (falsely) against the power of Solomon: the blasphemers Were, not Solomon, but the evil ones, teaching men Magic, and such things as came down at babylon to the angels Harut and Marut. But neither of these taught anyone (Such things) without saying: "We are only for trial; so do not blaspheme." They learned from them the means to sow discord between man and wife. But they could not thus harm anyone except by Allah's permission. And they learned what harmed them, not what profited them. And they knew that the buyers of (magic) would have no share in the happiness of the Hereafter. And vile was the price for which they did sell their souls, if they but knew!
— A. Yusuf Ali
اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت میں نام لے کر پیش کیا کرتے تھے ۔ حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا ۔ کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادوگری کی تعلیم بابل کے دو فرشتوں ہاروت وماروت پر نازل کی گئی تھی وہ (فرشتے تو آزمائش تھے) جب کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے تو پہلے صاف طور پر متنبہ کردیا کرتے تھے کہ دیکھ ہم محض ایک آزمائش ہیں تو کفر میں مبتلا نہ ہو ۔ “ پھر بھی وہی لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ۔ ظاہر تھا کہ اذن الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچاسکتے تھے ۔ مگر اس کے باجود وہ ایسی چیزیں سیکھتے تھے جو خود ان کے لئے نفع بخش نہیں بلکہ نقصان دہ تھی۔ اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ۔
— Fe Zilal al-Qur'an
اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے ، جو شیاطین سلیمان ؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے1، حالانکہ سلیمان ؑ نے کبھی کفر نہیں کیا ، کفر کے مرتکب تو وہ شیا طین تھے جو لوگو ں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے۔ اور پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں ، ھاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی ، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے ، تو پہلے صاف طور پر متنبہّ کر دیا کرتے تھے کہ ”دیکھ ، ہم محض ایک آزمائش ہیں ، تُوکفر میں مبتلا نہ ہو2“ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جُدائی ڈال دیں3۔ ظاہر تھا کہ اذن ِ الٰہی کہ بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے ، مگر اس کے با وجو د وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں ، بلکہ نقصان دہ تھی اور انھیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا ، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کتنی بُری متاع تھی جس کے بدلہ انھوں نے اپنی جا نوں کو بیچ ڈالا، کاش انھیں معلوم ہو تا
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]شیاطین سے مراد شیاطینِ جِنّ اور شیاطینِ اِنس دونوں ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ جب بنی اسرائیل پر اخلاقی ہ مادّی انحطاط کا دَور آیا اور غلامی، جہالت، نَکبَت و اِفلاس اور ذِلَّت و پستی نے ان کے اندر کوئی بلند حوصلگی و اُولواالعزمی نہ چھوڑی، تو ان کی توجہّات جادُو ٹونے اور طلسمات و ”عملیات“ اور تعویذ گنڈوں کی طرف مبذول ہونے لگیں۔وہ تو ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے، جن سے کسی مشَقّت اور جدّوجہد کے بغیر محض پُھونکوں اور منتروں کے زور پر سارے کام بن جایا کریں۔ اس وقت شیاطین نے ان کو بہکانا شروع کیا کہ سلیمان ؑ کی عظیم الشان سلطنت اور ان کی حیرت انگیز طاقتیں تو سب کچھ چند نقوش اور منتروں کا نتیجہ تھیں، اور وہ ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر اِن چیزوں پر ٹوٹ پڑے اور پھر نہ کتاب اللہ سے ان کو کوئی دلچسپی رہی اور نہ کسی داعی حق کی آواز انہوں نے سُن کردی۔
[2]مطلب یہ ہے کہ اس منڈی میں سب سے زیادہ جس چیز کی مانگ تھی وہ یہ تھی کہ کوئی ایسا عمل یا تعویذ مِل جائے جس سے ایک آدمی دُوسرے کی بیوی کو اس سے توڑ کر اپنے اوپر عاشق کر لے۔ یہ اخلاقی زوال کا وہ انتہائی درجہ تھا، جس میں وہ لوگ مبتلا ہو چکے تھے۔ پست اخلاقی کا اس سے زیادہ نیچا مرتبہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ایک قوم کے افراد کا سب سے زیادہ دلچسپ مشغلہ پرائی عورتوں سے آنکھ لڑانا ہو جائے اور کسی منکوحہ عورت کو اس کے شوہر سے توڑ کر اپنا کر لینے کو وہ اپنی سب سے بڑی فتح سمجھنے لگیں۔
ازدواجی تعلق در حقیقت انسانی تمدّن کی جڑ ہے۔ عورت اور مرد کے تعلق کی درستی پر پورے انسانی تمدّن کی درستی کا اور اس کی خرابی پر پورے انسانی تمدّن کی خرابی کا مدا ر ہے۔ لہٰذا وہ شخص بدترین مُفْسِد ہے جو اُس درخت کی جڑ پر تیشہ چلاتا ہو جس کے قیام پر خود اُس کا اور پوری سوسائٹی کا قیام منحصر ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ابلیس اپنے مرکز سے زمین کے ہر گوشے میں اپنے ایجنٹ روانہ کرتا ہے ۔ پھر وہ ایجنٹ واپس آکر اپنی اپنی کارروائیاں سُناتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے : میں نے فلاں شر کھڑا کیا۔ مگر ابلیس ہر ایک سے کہتا جاتا ہے کہ تُو نے کچھ نہ کیا۔ پھر ایک آتا ہے اور اطلاع دیتا ہے کہ میں ایک عورت اور اس کے شوہر میں جُدائی ڈال آیا ہوں۔ یہ سُن کر ابلیس اس کو گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تُو کام کر کے آیا ہے۔ اس حدیث پر غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ بنی اسرائیل کی آزمائش کو جو فرشتے بھیجے گئے تھے، انہیں کیوں حکم دیا گیا کہ عورت اور مرد کے درمیان جدائی ڈالنے کا ”عمل“ ان کے سامنے پیش کریں۔ دراصل یہی ایک ایسا پیمانہ تھا جس سے ان کے اخلاقی زوال کو ٹھیک ٹھیک ناپا جا سکتا تھا۔
[3]اس آیت کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں، مگر جو کچھ میں نے سمجھا ہے ہو یہ ہے کہ جس زمانے میں بنی اسرائیل کی پُوری قوم بابل میں قیدی اور غلام بنی ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو انسانی شکل میں ان کی آزمائش کے لیے بھیجا ہوگا۔ جس طرح قومِ لُوط کے پاس فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں گئے تھے، اسی طرح ان اسرائیلیوں کے پاس وہ پیروں اور فقیروں کی شکل میں گئے ہوں گے۔ وہاں ایک طرف انہوں نے بازارِ ساحری میں اپنی دکان لگائی ہوگی اور دُوسری طرف وہ اتمامِ حُجَّت کے لیے ہر ایک کو خبردار بھی کردیتے ہوں گے کہ دیکھو، ہم تمہارے لیے آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں، تم اپنی عاقبت خراب نہ کرو۔ مگر اس کے باوجود لوگ ان کے پیش کردہ عملیات اور نقوش اور تعویزات پر ٹوٹے پڑتے ہوں گے۔
فرشتوں کے انسانی شکل میں آکر کام کرنے پر کسی کو حیرت نہ ہو۔ وہ سلطنتِ الٰہی کے کار پرداز ہیں۔ اپنے فرائضِ منصبی کے سلسلے میں جس وقت جو صُورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے اختیار کرسکتے ہیں۔ ہمیں کیا خبر کہ اس وقت بھی ہمارے کردوپیش کتنے فرشتے انسانی شکل میں آکر کام کرجاتے ہوں گے۔ رہا فرشتوں کا ایک ایسی چیز سِکھانا جو بجاے خود بُری تھی، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے پولیس کے بے وردی سپاہی کسی رشوت خوار حاکم کو نشان زدہ سِکّے اور نوٹ لے جاکر رشوت کے طور پر دیتے ہیں تاکہ اسے عین حالتِ ارتکابِ جُرم میں پکڑیں اور اس کے لیے بے گناہی کے عذر کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔
اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے [1] ، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا[2]، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے[3] جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں[4] تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے[5]، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]یعنی ان یہودیوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے عہد کی تو کوئی پروا نہیں کی، البتہ شیطان کے پیچھے لگ کر نہ صرف جادو ٹونے پر عمل کرتے رہے، بلکہ یہ دعویٰ کیا کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) بھی (نعوذ باللہ) اللہ کے پیغمبر نہیں تھے بلکہ ایک جادوگر تھے اور جادو کے زور سے ہی حکومت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت سلیمان (عليه السلام) جادو کا عمل نہیں کرتے تھے، کیوں کہ عمل سحر تو کفر ہے، اس کفر کا ارتکاب حضرت سلیمان (عليه السلام) کیوں کر سکتے تھے؟ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) کے زمانے میں جادوگری کا سلسلہ بہت عام ہوگیا تھا، حضرت سلیمان (عليه السلام) نے اس کے سدباب کے لئے جادو کی کتابیں لے کر اپنی کرسی یا تخت کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان (عليه السلام) کی وفات کے بعد ان شیاطین اور جادوگروں نے ان کتابوں کو نکال کر نہ صرف لوگوں کو دکھایا ، بلکہ لوگوں کو یہ باور کرایا کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) کی قوت واقتدار کا راز یہی جادو کا عمل تھا اور اسی بنا پر ان ظالموں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی کافر قرار دیا، جس کی تردید اللہ تعالیٰ نے فرمائی (ابن کثیر۔ وغیرہ) واللہ اعلم۔
[2]بعض مفسرین نے «وَمَا أُنْزِلَ» میں ما نافیہ مراد لیا ہے اور ہاروت وماروت پر کسی چیز کے اترنے کی نفی کی ہے، لیکن قرآن کریم کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا۔ اسی لئے ابن جریر وغیرہ نے اس کی تردید کی ہے (ابن کثیر) اسی طرح ہاروت وماروت کے بارے میں بھی تفاسیر میں اسرائیلی روایات کی بھرمار ہے۔ لیکن کوئی صحیح مرفوع روایت اس بارے میں ثابت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تفصیل کے نہایت اختصار کےساتھ یہ واقعہ بیان کیا ہے، ہمیں صرف اس پر اور اسی حد تک ایمان رکھنا چاہیے (تفسیر ابن کثیر) قرآن کے الفاظ سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بابل میں ہاروت وماروت فرشتوں پر جادو کا علم نازل فرمایا تھا اور اس کا مقصد'واللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ' یہ معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ انبیا (عليهم السلام)کے ہاتھوں پر ظاہر شدہ معجزے، جادو سے مختلف چیز ہے اور جادو یہ ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا کیا گیا ہے (اس دور میں جادو عام ہونے کی وجہ سے لوگ انبیا کو بھی نعوذ باللہ جادوگر اور شعبدہ باز سمجھنے لگے تھے) اسی مغالطے سے لوگوں کو بچانے کے لئے اور بطور امتحان فرشتوں کو نازل فرمایا گیا۔- دوسرا مقصد بنواسرائیل کی اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی معلوم ہوتا ہے کہ بنواسرائیل کس طرح جادو سیکھنے کے لئے ان فرشتوں کے پیچھے پڑے اور یہ بتلانے کے باوجود کہ جادو کفر ہے اور ہم آزمائش کے لئے آئے ہیں، وہ علم سحر حاصل کرنے کے لئے ٹوٹے پڑ رہے تھے جس سے ان کا مقصد ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنا اور میاں بیوی کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کرنا تھا۔ یعنی یہ ان کے گراوٹ ، بگاڑ اور فساد کے سلسلے کی اہم کڑی تھی اور اس طرح کے توہمات اور اخلاقی گراوٹ کسی قوم کی انتہائی بگاڑ کی علامت ہیں۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ
[3]یہ ایسے ہی ہے جیسے باطل کی تردید کے لئے، باطل مذاہب کا علم کسی استاذ سے حاصل کیا جائے، استاذ شاگرد کو اس یقین دہانی پر باطل مذہب کا علم سکھائے کہ وہ اس کی تردید کرے گا۔ لیکن علم حاصل کرنے کے بعد وہ خود بدمذہب ہوجائے، یا اس کا غلط استعمال کرے تو استاذ اس میں قصوروار نہیں ہوگا۔
[4]«أَيْ: إِنَّمَا نَحْنُ ابْتِلاءٌ وَاخْتِبَارٌ مِنَ اللهِ لِعِبادِهِ»۔ ”ہم اللہ کی طرف سے بندوں کے لئے آزمائش ہیں۔“ (فتح القدیر)۔
[5]یہ جادو بھی اس وقت تک کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک اللہ کی مشیت اور اس کا اذن نہ ہو۔ اس لئے اس کے سیکھنے کا فائدہ بھی کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جادو کے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کو کفر قرار دیا ہے، ہر قسم کی خیر کی طلب اور ضرر کے دفع کے لئے صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کیا جائے، کیوں کہ وہی ہر چیز کا خالق ہے اور کائنات میں ہر کام اسی کی مشیت سے ہوتا ہے۔
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
— Fatah Muhammad Jalandhari
انہوں نے پیروی کی اس علم کی جو شیاطین پڑھا کرتے تھے سلیمان ؑ کی بادشاہت کے وقت وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (وہ اس علم کے پیچھے پڑے) جو نازل کیا گیا دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر بابل میں اور وہ نہیں سکھاتے تھے کسی کو بھی یہاں تک کہ وہ کہہ دیتے تھے کہ دیکھو ہم تو آزمائش کے لیے بھیجے گئے ہیں پس تم کفر مت کرو) پھر وہ سیکھتے تھے ان دونوں سے وہ شے جن کے ذریعے سے آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے تھے اور نہیں تھے وہ ضرر پہنچانے والے اس کے ذریعے کسی کو بھی اللہ کے اذن کے بغیر اور وہ سیکھتے تھے وہ چیزیں جو خود ان کو بھی ضرر پہنچانے والی تھیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتی تھیں۔ حالانکہ وہ خوب جان چکے تھے کہ جو بھی اس چیز کا خریدار بنا (یعنی جادو سیکھا) اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور بہت ہی بری تھی وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کردیا کاش انہیں علم ہوتا
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
اور پیچھے ہو لئے اس علم کے جو پڑتے تھے شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت [1] اور کفر نہیں کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور اس علم کے پیچھے ہو لئے جو اترا دو فرشتوں پر شہر بابل میں جن کا نام ہاروت اور ماروت ہے اور نہیں سکھاتے تھے وہ دونوں فرشتے کسی کو جب تک یہ نہ کہدیتے کہ ہم تو آزمائش کے لئے ہیں سو تو کافر مت ہو پھر ان سے سیکھتے وہ جادو جس سے جدائی ڈالتے ہیں مرد میں اور اسکی عورت میں اور وہ اس سے نقصان نہیں کر سکتے کس کا بغیر حکم اللہ کے اور سیکھتے ہیں وہ چیز جو نقصان کرے ان کا اور فائدہ نہ کرے اور وہ خوب جان چکے ہیں کہ جس نے اختیار کیا جادو کو نہیں اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ اور بہت ہی بری چیز ہے جسکے بدلے بیچا انہوں نے اپنے آپکو اگر ان کو سمجھ ہوتی
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]شیطانوں سے جادو کی تعلیم:یعنی ان احمقوں نے کتاب الہٰی تو پس پشت ڈالی اور شیطانوں سے جادو سیکھا اور اسکی متابعت کرنے لگے۔
اور وہ اس چیز کے پیچھے پڑگئے جس کو شیاطین، سلیمان کی سلطنت پر لگاکر پڑھتے تھے حالاں کہ سلیمان نے کفر نہیں کیا، بلکہ یہ شیاطین تھے جنھو ں نے کفر کیا وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور وہ اس چیز میں پڑگئے جو بابل میں دو فرشتوں ، ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، جب کہ ان کا حال یہ تھا کہ جب بھی وہ کسی کو اپنا یہ فن سکھاتے تو اس سے کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش کے ليے ہیں پس تم منکرنہ بنو مگر وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جس سے مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈال دیں حالاں کہ وہ اللہ کے اِذن کے بغیر اس سے کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے اور وہ ایسی چیز سیکھتے جوان کو نقصان پہنچائے اور نفع نہ دے اور وہ جانتے تھے کہ جو کوئی اس چیز کا خریدار ہو، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں کیسی بری چیز ہے جس کے بدلے انھوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا کاش، وہ اس کو سمجھتے
— Maulana Wahiduddin Khan
Solomon (Sulaiman عليه السلام) was innocent of the accusations against him. He was neither a magician, nor did he indulge in extra-marital affairs.
The devils, both humans and jinns, learned and practiced the magic which caused separation between man and wife. Cupid and his shenanigans were practiced then, and are still alive now. They are responsible for many a ruined marriages and destroyed households. They ruin the fabric of society, making it weaker, thread by thread.
(mentions 3-7) The Quran mentions Solomon (Sulaiman عليه السلام) in the honourable list of the prophets (Q4:163; Q6:84; Q21:78-81). Q21 mentions some details about the kingdom and powers granted to Prophet King Solomon (Sulaiman عليه السلام).
The Quran mentions him and his honourable father in Q27, Q34 and Q38:
(mentions 8-14) Q27 (Surah anNaml) mentions the reforms he was undertaking in the world: he orders the Queen of Saba to accept Islam. It highlights the high-technology of the era, and the special grace bestowed upon David (Daud عليه السلام) and Solomon (Sulaiman عليه السلام) over and above other advanced contemporary civilisations. Special mention is made of their ability to converse with birds. Jinns and birds were also a part of his army.
(mention 15) Q34 (Surah Saba) mentions the amazing kingdom that Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى bestowed upon Solomon (Sulaiman عليه السلام). It also mentions that the jinns were serving him, and being guarded. The death of Solomon (Sulaiman عليه السلام) went unnoticed till he eventually fell when his staff was eaten by a creature from the Earth. Had the jinns known the unknown, they would not have continued serving him after he died.
Moreover, the allegation that he was using magic to control the jinns also gets refuted by the fact that even after he died, they continued to serve him till they learnt about his death.
(mentions 16 & 17) Q38 (Surah Saad) is about rich and powerful men, believers and disbelievers.
Solomon (Sulaiman عليه السلام) missed his obligatory afternoon prayer while he was reviewing the horses. His love of the good almost cost him his kingdom. Yet, the surah highlights his repentance, the acceptance of the repentance, and he praying for, and consequently being granted much much more than what he had almost lost.
...
Related Posts in my blogs
The Sustainer of the Worlds (رَبِّ الْعَالَمِينَ)
The Devils among The Angels & The Khilafat of Adam
Gog Magog & The City that will Return
The Serpent & The Snake: a Clear Sign
The Creature that will Speak with Humans
Surah anNaml: the amazing ayaat ...
Act(s) of Reform (عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ and عَمِلَ صَالِحًا)
Salaam, The Significance of the Spoken Word!
The Evil of the الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ
izeen (عِضِينَ) the meaning of,
Secular Science vs Creation Faith
The Destruction of The Masjid of Solomon
The Case against the Bani Israel




