...
Al-Insan (76:5-10)
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍۢ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ٥
عَيْنًۭا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًۭا ٦
يُوفُونَ بِٱلنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًۭا كَانَ شَرُّهُۥ مُسْتَطِيرًۭا ٧
وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًۭا وَيَتِيمًۭا وَأَسِيرًا ٨
إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءًۭ وَلَا شُكُورًا ٩
إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًۭا قَمْطَرِيرًۭا ١٠
Indeed, the righteous will have a drink from a goblet, blended with (a drink from) Camphor that will be a spring from which Allah’s servants will drink, making it flow (wherever they wish) profusely. They (are the ones who) fulfill their vows, and fear a day whose evil (events) will spread far and wide, and they give food, out of their love for Him (Allah), to the needy, and the orphan, and the captive, (saying to them,) “We feed you only for the sake of Allah; we have no intention of (receiving) either a return from you or thanks. In fact, we are fearful of a day, from the side of our Lord, that will be frowning, extremely malignant.”
— T. Usmani
Indeed, the righteous will drink from a cup [of wine] whose mixture is of Kāfūr,[1] A spring of which the [righteous] servants of Allāh will drink; they will make it gush forth in force [and abundance]. They [are those who] fulfill [their] vows and fear a Day whose evil will be widespread. And they give food in spite of love for it[2] to the needy, the orphan, and the captive, [Saying], "We feed you only for the face [i.e., approval] of Allāh. We wish not from you reward or gratitude. Indeed, We fear from our Lord a Day austere and distressful."
یقینا نیکوکار بندے ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں کافور کی ملونی ہوگی۔ یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے خاص بندے پئیں گے اور جدھر چاہیں گے اس کی شاخیں نکال لے جائیں گے۔ وہ نذر کو پورا کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس کا شر ہر ُ سو پھیل جائے گا۔ اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں مسکین کو یتیم کو اور قیدی کو۔ (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو آپ کو یہ کھانا کھلا رہے ہیں صرف اللہ (کی رضا) کے لیے ہم آپ سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی شکریہ۔ ہم تو ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے جس کی اداسی بڑی ہولناک ہوگی۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
نیک لوگ ایسے پیالے سے پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اس چشمہ سے اللہ کے بندے پئیں گےوہ اس کی شاخیں نکالیں گے وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی اور اس کی محبت پر کھانا کھلاتے ہیں محتاج کو اور یتیم کواور قیدی کو ہم جوتم کو کھلاتے ہیں تو اللہ کی خوشی چاہنے کے لیےہم نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکرگزاری ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں
— Maulana Wahiduddin Khan
[https://quran.com/al-insan/5-10]
Surah al-Insaan describes the people who believe, and due to their belief, they feed the needy. Their love for their wealth does not prevent them from spending in the way of Allah. Their love for Allah and their fear of the extremely difficult day, which they believe is approaching, helps them do the deeds listed in these ayaat. They want to see the Face of Allah, and for that they invest in their future.
Believers, and those who do not believe, many people do good deeds that make the world a wonderful place. So, what about those who do not believe? What is to be expected for them?
...
Al-Kahf (18:103-106)
18:103
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِٱلْأَخْسَرِينَ أَعْمَـٰلًا ١٠٣
Say: Shall We inform you who will be the greatest losers by their works?
— M. Pickthall
Say: "Shall we tell you of those who lose most in respect of their deeds?-
— A. Yusuf Ali
کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں
— Fatah Muhammad Jalandhari
کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں؟
— Maulana Muhammad Junagarhi
18:104
ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا ١٠٤
Those whose effort goeth astray in the life of the world, and yet they reckon that they do good work.
— M. Pickthall
"Those whose efforts have been wasted in this life, while they thought that they were acquiring good by their works?"
— A. Yusuf Ali
وه ہیں کہ جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں بیکار ہوگئیں اور وه اسی گمان میں رہے کہ وه بہت اچھے کام کر رہے ہیں.[1]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]یعنی اعمال ان کے ایسے ہیں جو اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہیں، لیکن بزم خویش سمجھتے یہ ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔ اس سے مراد کون ہیں؟ بعض کہتے ہیں، یہود وانصار ہیں، بعض کہتے ہیں مخالفین اور دیگر اہل بدعت ہیں، بعض کہتے ہیں کہ مشرکین ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جس میں ہر وہ فرد اور گروہ شامل ہے جس کے اندر مذکورہ صفات ہوں گی۔ آگے ایسے ہی لوگوں کی بابت مزید وعیدیں بیان کی جا رہی ہیں۔
وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی۔ اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں
— Fatah Muhammad Jalandhari
18:105
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَآئِهِۦ فَحَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَزْنًۭا ١٠٥
Those are they who disbelieve in the revelations of their Lord and in the meeting with Him. Therefor their works are vain, and on the Day of Resurrection We assign no weight to them.
— M. Pickthall
They are those who deny the Signs of their Lord and the fact of their having to meet Him (in the Hereafter): vain will be their works, nor shall We, on the Day of Judgment, give them any weight.
— A. Yusuf Ali
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے
— Fatah Muhammad Jalandhari
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا[1] ، اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے.[2]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]رب کی آیات سے مراد توحید کے وہ دلائل ہیں جو کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ آیات تشریعی ہیں اور جو اس نے اپنی کتابوں میں نازل کیں اور پیغمبروں نے تبلیغ وتوضیع کی۔ اور رب کی ملاقات سے کفر کا مطلب آخرت کی زندگی اور دوبارہ جی اٹھنے سے انکار ہے۔
[2]یعنی ہمارے ہاں ان کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوگی یا یہ مطلب ہے کہ ہم ان کے لئے میزان کا اہتمام ہی نہیں کریں گے کہ جس میں ان کے اعمال تولے جائیں، اس لئے کہ اعمال تو موحدین کے تولے جائیں گے جن کے نامہ اعمال میں نیکیاں اور برائیاں دونوں ہونگی، جب کہ ان کے نامہ اعمال حسنات سے بالکل خالی ہوں گے جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ”قیامت والے دن موٹا تازہ آدمی آئے گا، اللہ کے ہاں اس کا اتنا وزن نہیں ہوگا جتنا مچھر کے پر کا ہوتا ہے“، پھر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ (صحیح بخاری۔ سورہ کہف)
18:106
ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا۟ وَٱتَّخَذُوٓا۟ ءَايَـٰتِى وَرُسُلِى هُزُوًا ١٠٦
That is their reward: hell, because they disbelieved, and made a jest of Our revelations and Our messengers.
— M. Pickthall
That is their reward, Hell, because they rejected Faith, and took My Signs and My Messengers by way of jest.
— A. Yusuf Ali
حال یہ ہے کہ ان کا بدلہ جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو مذاق میں اڑایا.
— Maulana Muhammad Junagarhi
یہ ان کی سزا ہے (یعنی) جہنم۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اُڑائی
— Fatah Muhammad Jalandhari
[https://quran.com/al-kahf/103-106]
The reason why they will lose out, in the hereafter, on the rewards of the good deeds they did in this world, is because they rejected guidance and made fun of Allah's Signs and Allah's Messengers.
People refuse to believe, people mock the messengers, — this has been going on since the beginning.
This is not a light matter.
The penalty is great: they risk being led away, and a terrible hereafter
Al-Isra (17:97)
وَمَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِهِۦ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًۭا وَبُكْمًۭا وَصُمًّۭا ۖ مَّأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَـٰهُمْ سَعِيرًۭا ٩٧
And he whom Allâh guides, he is led aright; but he whom He sends astray, for such you will find no Auliyâ’ (helpers and protectors), besides Him, and We shall gather them together on the Day of Resurrection on their faces,[1]blind, dumb and deaf; their abode will be Hell; whenever it abates, We shall increase for them the fierceness of the Fire.
It is he whom Allah guides, that is on true Guidance; but he whom He leaves astray - for such wilt thou find no protector besides Him. On the Day of Judgment We shall gather, them together, prone on their faces, blind, dumb, and deaf: their abode will be Hell: every time it shows abatement, We shall increase from them the fierceness of the Fire.
— A. Yusuf Ali
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے ، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے سوا ایسے لوگوں کے لئے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پاسکتا۔ ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے ، اندھے ، کوئلے اور بہرے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔
— Fe Zilal al-Qur'an
اور جس کو راہ دکھلائے اللہ وہی ہے راہ پانے والا اور جس کو بھٹکائے پھر تو نہ پائے انکے واسطے کوئی رفیق اللہ کے سوائے [1] اور اٹھائیں گے ہم انکو دن قیامت کے چلیں گے منہ کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے [2] ٹھکانا ان کو دوزخ ہے جب لگے گی بجھنے اور بھڑکا دیں گے ان پر [3]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر اللہ کی فعلی شہادت:یعنی خدا کی توفیق و دستگیری ہی سے آدمی راہ حق پر چل کر منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے جس کی بدبختی اور تعنت کی وجہ سے خدا دستگیری نہ فرمائے اسے کون ہے جو ٹھیک راستہ پر لگا سکے۔
[2]آخرت میں کفار کا حشر:یہ قیامت کے بعض مواطن میں ہو گا کہ کافر منہ کے بل اندھے گونگے کر کے چلائے جائیں گے ۔ حدیث میں ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! منہ کے بل کس طرح چلیں گے فرمایا جس نے آدمی کو پاؤں سے چلایا وہ قادر ہے کہ سر سے چلا دے۔ باقی فرشتوں کا جہنمیوں کو منہ کے بل گھسیٹنا ، وہ دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہو گا۔ یَوۡمَ یُسۡحَبُوۡنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ (القمر۔۴۸)۔
[3]یعنی عذاب معین اندازہ سے کم نہیں ہونے دیں گے۔ اگر بدن جل کر تکلیف میں کمی ہونے لگے گی تو پھر نئے چمڑے چڑھا دیے جائیں گے۔ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا (نساء۔۵۶)۔
[https://quran.com/al-isra/97]
...
...
...
No comments:
Post a Comment