...
Joseph (12:111)
لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًۭا يُفْتَرَىٰ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ١١١
There was certainly in their stories a lesson for those of understanding. Never was it [i.e., the Qur’ān] a narration invented, but a confirmation of what was before it and a detailed explanation of all things and guidance and mercy for a people who believe.
— Saheeh International
There is, in their stories, instruction for men endued with understanding. It is not a tale invented, but a confirmation of what went before it,- a detailed exposition of all things, and a guide and a mercy to any such as believe.
— A. Yusuf Ali
یقیناً ان (سابقہ اقوام) کے واقعات میں ہوش مند لوگوں کے لیے عبرت ہے یہ (قرآن) ایسی بات نہیں جسے گھڑ لیا گیا ہو بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اس کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور (اس میں) تفصیل ہے ہرچیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو (اس پر) ایمان لاتے ہیں
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
ان کے قصوں میں سمجھ دار لوگوں کے ليے بڑی عبرت ہے یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں ، بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے ليے
— Maulana Wahiduddin Khan
The Quran is a factual book which narrates the truth. It is not a tale invented.
Surah Yusuf concludes on the note that it is not a tale invented (مَا كَانَ حَدِيثًۭا يُفْتَرَىٰ), but it is a confirmation of what happened.
Surah Yusuf also presents a few examples of invented stories. Tales that people invent.
The first such example is the tale invented about Joseph (Yusuf)'s disappearance:
اِذۡ قَالُوۡا لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ اَحَبُّ اِلٰٓى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنِ ۖ ۚ ٨ اۨقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا يَّخۡلُ لَـكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ وَ تَكُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ قَوۡمًا صٰلِحِيۡنَ ٩ قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ وَاَلۡقُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُـبِّ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ السَّيَّارَةِ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ١٠ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا لَـكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَ ١١ اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ١٢ قَالَ اِنِّىۡ لَيَحۡزُنُنِىۡ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡـتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَ ١٣ قَالُوۡا لَٮِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ١٤ فَلَمَّا ذَهَبُوۡا بِهٖ وَاَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ يَّجۡعَلُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُبِّۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ لَـتُنَـبِّئَـنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ١٥ وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؕ ١٦ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُۚ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صٰدِقِيۡنَ ١٧ وَجَآءُوۡ عَلٰى قَمِيـۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَـكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًاؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌؕ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ١٨
8.They said: "Truly Joseph and his brother are loved more by our father than we: But we are a goodly body! really our father is obviously wandering (in his mind)! 9."Slay ye Joseph or cast him out to some (unknown) land, that so the favour of your father may be given to you alone: (there will be time enough) for you to be righteous after that!" 10.Said one of them: "Slay not Joseph, but if ye must do something, throw him down to the bottom of the well: he will be picked up by some caravan of travellers." 11.They said: "O our father! why dost thou not trust us with Joseph,- seeing we are indeed his sincere well-wishers? 12."Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and we shall take every care of him." 13.(Jacob) said: "Really it saddens me that ye should take him away: I fear lest the wolf should devour him while ye attend not to him." 14.They said: "If the wolf were to devour him while we are (so large) a party, then should we indeed (first) have perished ourselves!" 15.So they did take him away, and they all agreed to throw him down to the bottom of the well: and We put into his heart (this Message): 'Of a surety thou shalt (one day) tell them the truth of this their affair while they know (thee) not' 16.Then they came to their father in the early part of the night, weeping. 17.They said: "O our father! We went racing with one another, and left Joseph with our things; and the wolf devoured him.... But thou wilt never believe us even though we tell the truth." 18.They stained his shirt with false blood. He said: "Nay, but your minds have made up a tale (that may pass) with you, (for me) patience is most fitting: Against that which ye assert, it is Allah (alone) Whose help can be sought"..
— A. Yusuf Ali
8.جب اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالاں کہ ہم ایک پورا جتھا ہیں یقیناً ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے 9.یوسف کو قتل کردو یا اس کو کسی جگہ پھینک دو تاکہ تمھارے باپ کی توجہ صرف تمھاری طرف ہوجائے اور اس کے بعد تم بالکل ٹھیک ہوجانا 10.ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو تو اس کو کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا
10.ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو تو اس کو کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا 11.انھوں نے اپنے باپ سے کہا، اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالاں کہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں 12.کل اس کو ہمارے ساتھ بھیج دیجيے، کھائے اور کھیلے، اور ہم اس کے نگہبان ہیں 13.باپ نے کہا، میں اس سے غمگین ہوتا ہوں کہ تم اس کو لے جاؤ اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے جب کہ تم اس سے غافل ہو 14.انھوں نے کہا کہ اگر اس کو بھیڑ یا کھا گیا جب کہ ہم ایک پوری جماعت ہیں ، تو ہم بڑے خسارے والے ثابت ہوں گے 15.پھر جب وہ اس کو لے گئے اور یہ طے کرلیا کہ اس کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے یوسف کو وحی کی کہ تو ان کوان کا یہ کام جتائے گااور وہ تجھ کو نہ جانیں گے 16.اور وہ شام کو اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے 17.انھوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا پھر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے، چاہے ہم سچے ہوں 18.اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگاکر لے آئے باپ نے کہا نہیں ، بلکہ تمھارے نفس نے تمھارے ليے ایک بات بنادی ہے اب صبر ہی بہتر ہے اور جو بات تم ظاہر کر رہے ہو، اس پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں
— Maulana Wahiduddin Khan
[https://quran.com/yusuf/8-18]
There are a few more examples of invented stories in Surah Yusuf.
In Ayat 40, a statement is being made about the myths of Ancient Egyptian religion:
Joseph (12:40)
مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٤٠
Whatever ˹idols˺ you worship instead of Him are mere names which you and your forefathers have made up[1]—a practice Allah has never authorized. It is only Allah Who decides. He has commanded that you worship none but Him. That is the upright faith, but most people do not know.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
[1] Meaning, “You call them gods while in fact they are not gods.”
Whatever you worship, other than Him, are nothing but names you have coined, you and your fathers. Allah has sent down no authority for them. Sovereignty belongs to none but Allah. He has ordained that you shall not worship anyone but Him. This is the only right path. But most of the people do not know.”
— T. Usmani
You worship not besides Him except [mere] names you have named them,[1] you and your fathers, for which Allāh has sent down no evidence. Legislation is not but for Allāh. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.
— Saheeh International
[1]- The false objects of worship which you have called "gods."
Those whom ye worship beside Him are but names which ye have named, ye and your fathers. Allah hath revealed no sanction for them. The decision rests with Allah only, Who hath commanded you that ye worship none save Him. This is the right religion, but most men know not.
— M. Pickthall
"If not Him, ye worship nothing but names which ye have named,- ye and your fathers,- for which Allah hath sent down no authority: the command is for none but Allah: He hath commanded that ye worship none but Him: that is the right religion, but most men understand not...
— A. Yusuf Ali
اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو ، یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
— Fe Zilal al-Qur'an
اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی[1] ، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست [2]ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.[3]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ان کا نام معبود تم نے خود ہی رکھ لیا ہے، دراں حالیکہ وہ معبود ہیں نہ ان کی بابت کوئی دلیل اللہ نے اتاری ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان معبودوں کے جو مختلف نام تم نے تجویز کر رکھے ہیں۔ مثلا خواجہ غریب نواز، گنج بخش کرنی والا، کرماں والا وغیرہ یہ سب تمہارے خود ساختہ ہیں۔ ان کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔
[2]یہی دین، جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں، جس میں صرف ایک اللہ کی عبادت ہے، درست اور رقیم ہے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
[3]جس کی وجہ سے اکثر لوگ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں «وَمَاوَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ» (سورۂ یوسف:106) ”ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں“ اور فرمایا «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» (سورۂ یوسف:103) ”اے پیغمبر تیری خواہش کے باوجود اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں“۔
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
— Fatah Muhammad Jalandhari
نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے مگر نام ہیں جو رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند [1] حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اسی کو [2] یہی ہے راستہ سیدھا پر بہت لوگ نہیں جانتے [3]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]یعنی قدیم سے انبیاء علیہم السلام کی زبانی یہ ہی حکم بھیجتا رہا کہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک مت کرو۔ وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ (زخرف۔۴۵)
[2]یعنی توحید خالص کے راستہ میں ایچ پیچ کچھ نہیں۔ سیدھی اور صاف سڑک ہے جس پر چل کر آدمی بے کھٹکے خدا تک پہنچتا ہے لیکن بہت لوگ حماقت یا تعصب سے ایسی سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھتے۔
[3]قیدیوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کی تبلیغ:یعنی یوں ہی بے سند اور بے ٹھکانے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں جن کے نیچے حقیقت ذرہ برابر نہیں۔ ان ہی نام کے خداؤں کی پوجا کر رہے ہو ۔ ایسے جہل پر انسان کو شرمانا چاہئے۔
تم اس کے سوا نہیں پوجتے ہو مگر کچھ ناموں کو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ ليے ہیں اللہ نے اس کی کوئی سند نہیں اتاری اقتدار صرف اللہ کے ليے ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے
— Maulana Wahiduddin Khan
..
List of learnings from Surah Yusuf
...
No comments:
Post a Comment